علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)، نگرنگم کی جانب سے 20 اگست 2026 کو رائیڈنگ فیلڈ کی اراضی پر قبضہ کئے جانے کے سلسلہ میں یہ واضح کرتی ہے کہ یہ اراضی یونیورسٹی کی قانونی ملکیت ہے اور اس کے تمام دستاویزات، ریکارڈ اور قانونی شواہد یونیورسٹی کے پاس موجود ہیں۔
13جون 1925 سے یہ اراضی ”حصول اراضی قانون 1894“ کے تحت یونیورسٹی کی تحویل میں ہے اور 19 نومبر 1940 کو یونائیٹیڈ پرووِنس (اترپردیش کا قدیم نام) کے گورنر نے یہ اراضی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے حاصل کی۔ اس طرح یہ اراضی 1925 سے یونیورسٹی کی ملکیت میں ہے۔
واضح ہو کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مرکزی حکومت کے ماتحت ایک خود مختار تعلیمی ادارہ ہے، چنانچہ اس کی املاک مرکزی حکومت کے تحت ہوتی ہیں۔
Deeply hurt by the act of Nagar Nigam who without serving any notice encroached the land of AMU we will take up all legal procedures to get it solved - AMU Vice chancellor #AMU pic.twitter.com/6ohwqnA9QQ
— The Alig's Portal® (@thealigsportal) August 20, 2026
نگر نگم کی جانب سے یہ گمراہ کن دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اِس اراضی کو قبضہ سے آزاد کرایا گیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اراضی یونیورسٹی کی ملکیت ہے جس پر نگر نگم کے ذریعہ دعویٰ کیا جارہا ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے یہ بھی بتایا کہ سال 1992 میں یونیورسٹی کے ریونیو ریکارڈوں میں خفیہ طریقہ سے ہیراپھیری کی گئی تھی، جسے کسی مجاز افسر کے حکم یا منظوری کے بغیر کیا گیا تھا۔ ایسے دستاویزات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نگرنگم کی پوری کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے۔
سال 2003میں اس ہیراپھیری کا علم ہونے پر یونیورسٹی کی جانب سے ریونیو ریکارڈ میں تصحیح کے لیے مسلسل کوشش کی جارہی ہے اور اسی کڑی میں 29 مارچ 2025 کو ریونیو ریکارڈ میں تصحیح کے لئے مجاز سطح پر قانونی طور سے اپنا دعویٰ پیش کیا تھا، جو آج بھی ایس ڈی ایم کول کے یہاں زیر التوا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایس ڈی ایم کول کی ہی موجودگی میں نگرنگم کی جانب سے بغیر کسی قانونی بنیاد کے عجلت میں کارروائی کرتے ہوئے یونیورسٹی کی اراضی پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو پوری طرح غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ 3 جنوری 2022 کو پیمائش کے بعد 6 جنوری 2022 کو تحصیلدار، قانون گو اور لیکھ پال کی مشترکہ رپورٹ میں یہ اراضی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے گھوڑسوار فیلڈ کے نام پر درج ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے نگر نگم سے فوری طور پر اس غیر قانونی کارروائی کو روکنے اور زیرِ التوا معاملے کا منصفانہ اور قانونی تصفیہ ہونے تک صورتِ حال کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نگر نگم کی اس کارروائی کے خلاف اے ایم یو کے اساتذہ، ملازمین، موجودہ و سابق طلبہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے آج کے اس پورے معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہر سطح پر کوششیں شروع کردی ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی املاک اور ریکارڈوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری قانونی قدم اٹھائے گی۔
جیسے ہی یہ معاملہ یونیورسٹی کے علم میں آیا، یونیورسٹی پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان اپنی ٹیم کے ساتھ، ممبر انچارج پراپرٹی پروفیسر محمد آصف، پراپرٹی آفیسر محمد عارف اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچے اور اپنا موقف پیش کرتے ہوئے اس نامناسب کارروائی کی مخالفت کی۔ بعد ازاں یونیورسٹی کے مذکورہ بالا حکام نے نگرآیکت اور ایس ڈی ایم سے ملاقات کرکے یونیورسٹی کا موقف ان کے سامنے پیش کیا۔اموٹا کے صدر پروفیسر طفیل احمد اور سکریٹری مسٹر اشرف متین بھی اس موقع پر یونیورسٹی عہدیداران کے ساتھ موجود تھے ( پریس ریلیز)
وائس چانسلر کی ناراضگی
دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانپروفیسر نعیمہ خاتون نے کہا کہ یہ ایک مرکزی حکومت کی یونیورسٹی ہے، کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ ذاتی ملکیت پر بھی اگر کوئی قبضہ ہوتا ہے یا بلڈوزر چلایا جاتا ہے تو اس کے لیے باقاعدہ نوٹس چسپاں کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے معاملے میں جس طرح زبردستی نگر نگم کی جانب سے قبضہ کیا گیا ہے، اسے ہم کسی بھی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔ ہم سپریم کورٹ تک جائیں گے، قانونی جنگ لڑیں گے اور اپنی زمین پر دوبارہ اپنا قبضہ حاصل کریں گے۔
ہم کوئی زبردستی کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔ یہ ایک باقاعدہ اور ذمہ دار ادارہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم آ کر اپنی طرف سے کوئی بورڈ لگا دیں، جیسا کہ انہوں نے غلط طریقے سے یہاں بورڈ لگا دیا ہے۔ جس طرح کی کارروائی کی گئی ہے، وہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے اور کسی کے بھی سمجھ میں نہیں آ رہی۔
اس وقت میں بھی اس معاملے پر بات کر رہی ہوں۔ ہمارے پراکٹر صاحب جا رہے ہیں۔ وہ نگر آیکت، ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ، پراپرٹی کے ذمہ دار حکام اور متعلقہ افسران سے ملاقات کریں گے۔ ہمارے پراکٹر صاحب، ممبر انچارج پراپرٹی اور پراپرٹی آفیسر تمام دستاویزات اور متعلقہ کاغذات لے کر اس وقت ان کے دفتر جا رہے ہیں اور یونیورسٹی کا مؤقف اور تمام قانونی ثبوت ان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔