نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ غالب توسیعی خطبے میں ممتاز نقاد اور ماہرِ ادب پروفیسر انیس الرحمن نے عالمی ادب کے بدلتے ہوئے منظرنامے اور اس میں مرزا غالب کی غیر معمولی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا بھر میں عالمی ادب (World Literature) کا تصور تیزی سے فروغ پا رہا ہے اور اس حوالے سے یہ سوالات اہمیت اختیار کر رہے ہیں کہ عالمی ادب کی تعریف کیا ہے، اس کے معیار کیا ہونے چاہییں اور کن تخلیقات کو اس میں شامل کیا جانا چاہیے۔
پروفیسر انیس الرحمن نے کہا کہ مغرب میں اس موضوع پر ایک اہم کتاب مرتب کی گئی ہے، جس میں اردو زبان کی نمائندگی صرف مرزا غالب کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اگرچہ مغربی دنیا نے مشرقی ادب کے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کیا، تاہم اس نے ایسے قابلِ قدر علمی کام بھی انجام دیے ہیں جن پر پوری ادبی دنیا ان کی شکر گزار ہے۔
انہوں نے معروف امریکی محقق پروفیسر فرانسس پریچٹ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اردو ادب، بالخصوص غالبیات کے حوالے سے ایک منفرد ویب سائٹ تیار کی ہے، جسے وہ آج بھی مسلسل اپ ڈیٹ کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اس ویب سائٹ پر موجود اردو ادب کا ذخیرہ اپنی نوعیت کا منفرد ہے اور کسی دوسری ویب سائٹ پر اس کی مثال نہیں ملتی۔
پروفیسر انیس الرحمن نے مزید کہا کہ مرزا غالب کی شخصیت اور فکر نے پوری دنیا کے اہلِ علم و ادب کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ تقریباً تیس برس قبل انصار اللہ نظر نے غالب پر دنیا بھر میں لکھی جانے والی کتابوں کی ایک جامع کتابیات مرتب کی تھی، جسے موجودہ دور کے نئے تحقیقی کاموں کے ساتھ ازسرِ نو شائع کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریب کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سیکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ غالب توسیعی خطبہ بظاہر ایک معمول کی علمی تقریب معلوم ہوتی ہے، تاہم اس کے لیے مقرر کا انتخاب نہایت غور و فکر اور مشاورت کے بعد کیا جاتا ہے تاکہ ہر خطبہ نئے علمی مباحث اور تازہ موضوعات پر مشتمل ہو۔
انہوں نے کہا کہ پروفیسر انیس الرحمن نے اپنے خطاب میں عالمی ادب کے بدلتے رجحانات، نئے فکری تقاضوں اور درپیش چیلنجز کی جانب توجہ دلائی، جو موجودہ دور میں اردو ادب کے لیے نہایت اہم ہیں۔
غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ قومی اور بین الاقوامی سیمیناروں کے ساتھ ساتھ مختلف اہم ادبی و فکری موضوعات پر توسیعی خطبات کا بھی باقاعدگی سے اہتمام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خطبات کا مقصد اردو دنیا میں تحقیق، تنقید اور نئے فکری مباحث کو فروغ دینا ہے، تاکہ ادب کے ان گوشوں کی نشاندہی کی جا سکے جن پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تقریب میں دہلی اور ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، محققین، اساتذہ، طلبہ اور علم و ادب سے وابستہ متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔