گیا: جامع مسجد میں بی پی ایس سی کی کوچنگ شروع

Story by  ایم فریدی | Posted by  [email protected] | 11 Months ago
گیا: جامع مسجد میں بی پی ایس سی کی کوچنگ شروع

 

سراج انور/پٹنہ

مسجد کے سماجی ، تعلیمی اور فلاحی استعمال کی لہر دراصل کورونا کے دوران سرخیوں میں آئی تھی۔ مسلمانوں نے اس نازک دور میں مساجد کے مختلف فلاحی استعمال کی نئی مثالیں قائم کی تھیں۔حالانکہ یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں تھا لیکن اس کو میڈیا یا سوشل میڈیا نے بہت زیادہ نمایاں طور پر پیش نہیں کیا تھا ۔اب کورونا کے دور میں آکسیجن کی سپلائی سے آئسولیشن سینٹرز تک کی خدمات میں مساجد نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی کی ایک کڑی اور سامنے آئی ہے ۔ نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اب مسجد کے دروازے بھی کھولنے شروع کر دیے ہیں۔ صوفی پیر منصور کی سرزمین 'گیا' کی سب سے بڑی اور قدیم جامع مسجد کی جانب سے اسی سمت میں ایک منفرد کوشش کی گئی ہے۔

مسجد انتظامیہ کے مطابق غریب طلبا کو مسجد کی جانب سے بہار پبلک سروس کمیشن کی مفت کوچنگ فراہم کی جائے گی۔اس کے لیے مسجد انتظامیہ نے 10 لاکھ کے سالانہ بجٹ کا انتظام بھی کر لیاہے۔ بی پی ایس سی کی کوچنگ کے لیے امیدواروں کے داخلے 14 فروری سے ہی شروع ہو گئے ہیں۔ جو کہ آئندہ 26 فروری2022 تک جاری رہیں گے۔

جب کہ بی پی ایس سی کی کلاسز ہولی کے بعد مارچ کے آخری ہفتے سے شروع کی جائیں گی۔ مگدھ کے اورنگ آباد، نوادہ، ارول جیسے پسماندہ اضلاع جہاں طلبا کے لیے بہتر کوچنگ کا نظم نہیں ہے۔ یہاں کے طلبا مادی مشکلات کے سبب بی پی ایس سی کی کوچنگ کے لیے بڑے شہروں مثلا پٹنہ، دہلی وغیرہ نہیں جا سکتے۔ان طلبا کو دھیان میں رکھتے ہوئے مسجد انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے

۔خیال رہے ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں واقع حج بھون میں اس قسم کی کوچنگ پہلے سے چل رہی ہے۔

مثال بنے گی جامع مسجد

ریاست بہار کے اندر کسی بھی مسجد انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کی پہل نہیں کی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے، جب کہ گیا کی جامع مسجد کی جانب سے ایک خوبصورت شروعات کی گئی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اب تک مسجاجد کا استعمال صرف نماز کے لیے ہوتا تھا، مگر اب نماز کے علاوہ تعلیم کے لیے بھی مسجد کا استعمال کیا جائے گا۔

awazthevoice

بی پی ایس سی کی تیاری کرنے والے طلبا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنے کے لیے چین جانا پڑے توجاؤ۔ جدید تعلیم حاصل کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اسلام نے ہمیں نہیں روکا ہے۔ گیا شہر کے سرائے میں واقع جامع مسجد ایک مثالی مسجد بننے جا رہی ہے۔

ہندو مسلم اتحاد کی علامت

جامع مسجد گیا کے سرائے میں واقع ہے۔ اس سے متصل ہندوں کا دکھ ہرنی مندر ہے۔ مسجد کے سامنے جو راستہ ہے، وہاں دسہرہ کے موقع پر وسرجن کے لیے شہر کے درگا کی سات بڑی مورتیاں گزرتی ہیں۔ مسجد اور مندر کمیٹی کے لوگ اس موقع موجود رہتے ہیں اور اس کام کو خوش اسلوبی سے مکمل کراتے ہیں۔

سرائے کے اسی علاقے میں طوائف خانہ ہے، تاہم طوائف خانہ اب برباد ہو چکا ہے۔ مسجد میں کوچنگ شروع ہونے کے بعد پورے علاقے میں علم کی شمع روشن ہو جائے گی۔ کیوں کہ مسجد سے متصل علاقہ غربت زدہ ہے، جہاں تعلیم کی کمی ہے۔  خیال رہے کہ مسجد انتظامیہ کی جانب سے پہلے سے ہی غریب بچوں کے لیے اسکول چلایا جا رہا ہے۔ بیداری مہم کے ذریعہ یہاں کے بچوں کا داخلہ اسکولوں میں کرایا جاتا ہے۔

وہیں مسجد انتظامیہ ان بچوں میں کاپی، کتاب، پنسل فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مسجد انتظامیہ ہر سال سردی کے موسم میں غریبوں میں کمبل بھی تقسیم کرتی ہے۔ یہ گیا شہر کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کا طرز تعمیر جامع مسجد دہلی جیسا ہے۔ مسجد انتظامیہ کے چیئرمین پروفیسر محمد حبیب اور سیکرٹری حاجی اختر حسین عرف حسنو میاں ہیں۔ پروفیسر حبیب مرزا غالب کالج میں پڑھاتے تھے، اب وہ سبکدوش ہو چکے ہیں۔ جب کہ حسنو میاں سیاسی و سماجی شخصیت ہیں، اب وہ سماجی کاموں میں مصروف ہیں۔ اب مسجد انتظامیہ نے ایک بہترین فیصلہ کیا ہے، ایک مثالی قدم اٹھایا ہے۔ اب یہاں بی پی ایس سی کی کوچنگ شروع ہو رہی ہے۔

 جامع مسجد بی پی ایس سی کوچنگ سینٹر

 یہ سنٹر اس سال قائم کیا گیا ہے۔یہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ سے منسلک ہے۔یہ جامع مسجد وقف بورڈ کے تحت ہے۔کوچنگ سنٹر فی الحال بی پی ایس سی کے امتحان کے لیے 66 امیدواروں کی تیاری کرائی جائے گی۔ جس میں 19لڑکیاں اور 41 لڑکے ہیں۔ جب کہ 114 امیدواروں نے یہاں داخلے کے لیے اپلائی کیا تھا۔92 لوگ انٹرویو میں شریک ہوئے۔ جب کہ 66 طلبا منتخب ہوئے تھے۔ سلیکشن کا عمل مکمل طور پر شفاف رکھا گیا تھا۔

awazthevoice

جامع مسجد گیا کی خوبصورت تصویر

انٹرویو بورڈ میں ریٹائرڈ آئی اے ایس محمد سلیم ،مرزا غالب کالج کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر عبدالعظیم اختر، جی بی ایم کالج کی ڈاکٹر شگفتہ انصاری اور کوچنگ سینٹر کے مقامی کوآرڈینیٹر محمد علی سربراہ تھے۔ منتخب امیدواروں کا تحریری انٹرویو دو دن تک جاری رہا۔

پروفیسر حبیب نے آواز دی وائس کو بتایا کہ گیا شہر کے ساتھ ساتھ شیرگھاٹی، نوادہ، جہان آباد، رفیع گنج اور شمالی بہار کے سیتامڑھی سے بھی کچھ طلبا منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک باہر کے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ہاسٹل کا نظم نہیں ہے، پھر بھی اقلیتی ہاسٹل میں ان کے لیے انتظامات کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

کوچنگ کا بجٹ

جامع مسجد کی ماہانہ آمدنی تین لاکھ روپے ہے، دو لاکھ کی رقم مسجد کی دیکھ بھال پر خرچ ہوجاتی ہے، باقی ایک لاکھ کوچنگ چلانے پر خرچ کی جائے گی، وہیں کوچنگ کے لیے دس لاکھ روپے کا سالانہ بجٹ رکھا گیا ہے۔ مسجد انتظامیہ نے کوچنگ کو ایک چیلنج کے طور پر لیا ہے، اس کے لیے گیا، پٹنہ سمیت ملک بھر کے ماہر اساتذہ سے تعاون لینے کی بات کی جا رہی ہے۔ ہر فیکلٹی کے لیے ماہر اساتذہ رکھنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

پروفیسر حبیب نے بتایا کہ حیدرآباد میں مقیم مولانا آزاد نے یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے آن لائن تعاون کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کےایک پروفیسر نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ابتدائی طور پر انتظامیہ کو مشکلات پیش آئیں مگر اس کے باجود کام شروع کردیا گیا۔اس میں سنی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد ارشاد اللہ کی تحریک اور حمایت بھی شامل ہے۔

جامع مسجد کے پیچھے شادی ہال کے دو کمرے الاٹ کیے گئے ہیں۔لائبریری بھی بنائی جارہی ہے۔ جس میں مقابلہ جاتی امتحان کی مختلف کتابیں دستیاب کرائی جائیں گی۔ لائبریری کو کم از کم دس گھنٹے کے لیے کھولنے کی تجویز ہے۔

لائبریری ایک ہزار مربع فٹ پر مبنی ہو گا۔جب کہ کلاس روم گیارہ سو مربع فٹ پر مشتمل ہو گا۔پروفیسر حبیب کا کہنا ہے کہ اس علاقے کے طلبا میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، اگرچہ یہ طلبا مالی مشکلات کے شکار ہیں۔ گیا کے معروف صحافی فیصل رحمانی کا کہنا ہے کہ مسجد انتظامیہ کایہ قدم قابل تحسین ہے اس سے دوسروں کو بھی حوصلہ ملے گا۔