اقبال کی نظر میں گوتم بدھ

Story by  غوث سیوانی | Posted by  [email protected] | Date 02-09-2026
اقبال کی نظر میں گوتم بدھ
اقبال کی نظر میں گوتم بدھ

 



غوث سیوانی،نئی دہلی

علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فکر میں تاریخ کے عظیم لوگوں  کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں  گوتم بدھ بھی شامل ہیں  جن کا ذکر بڑے احترام کے ساتھ ملتا ہے۔ اقبال کی نظر میں گوتم بدھ صرف ایک مذہبی پیشوا نہیں بلکہ انسانیت، محبت، رحم دلی، ضبطِ نفس اور اخلاقی انقلاب کے علمبردار تھے۔انہوں نے اس دنیا کو صرف اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ تہذیبی اور فکری طور پر بھی تبدیل کیا۔ ان کا پیغام ایشیا کے بیشتر حصوں میں پھیلا اور ان کی فکر سے ایک دنیا متاثر ہوئی۔ دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں اور مفکروں نے گوتم بدھ کے تعلق سے لکھا ہے اور اقبال بھی انہیں لوگوں میں شامل ہیں۔ اقبال نے اپنے اشعار میں جہاں تہاں ان کا ذکر کیا ہے، اس کے علاوہ فارسی کتاب "جاوید نامہ" میں ان کا تذکرہ انتہائی ادب کے ساتھ ملتا ہے۔

گوتم بدھ کادنیا میں اثر

ایک دور تھا جب چین سے ایران تک گوتم بدھ کے ماننے والے موجود تھے۔ ہندوستان، افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے ممالک میں بدھ مت کے پیروکار بڑی تعداد میں تھے۔ یہی سبب ہے کہ ان علاقوں میں آج بھی سب سے زیادہ تاریخی بدھ استوپ پائے جاتے ہیں اور گوتم بدھ کے بت ملتے ہیں۔بہار اور اترپردیش میں بدھسٹوں کے بڑے بڑے مراکز تھے جن کے تاریخی شواہد پٹنہ، نالندہ سے لے کر ایودھیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔کشمیر بھی بدھ ازم کا اہم مقام تھا۔  موجودہ پاکستان وافغانستان کو گندھارا تہذیب کا مرکز مانا جاتا تھا جہاں بدھ ازم کے مراکز تھے۔ موجودہ تاجکستان،ازبکستان، ترکمانستان،آزربائیجان سے ایران تک میں بدھسٹ پھیلے ہوئے تھے۔

  یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عرب ملکوں میں بدھ بھکشو پائے جاتے تھے جنہیں ان کے لباس کے رنگ کی مطابقت سے "محمرہ" کہا جاتا تھا جس کا مطلب ہے سرخ پوش۔مورخین کے مطابق عرب والے گوتم بدھ کی مورتی سے بھی واقف تھے۔عہد حاضر میں چین، جاپان، تبت، کمبوڈیا، برما، بھوٹان،سری لنکا ،تھائی لینڈ، لائوس، ویتنام، جنوبی کوریا، منگولیاوغیرہ ممالک میں بڑی تعداد میں بدھ مت کے ماننے والے ہیں۔ ہندوستان جہاں بدھ مت کا آغاز ہوا،اب بہت کم بدھسٹوں کا گھر ہے۔یہاں ایک فیصد سے بھی کم بدھسٹ آبادی ہے جب کہ بدھ ازم اب بھی دنیا کا چوتھا سب سے بڑا دھرم ہے۔

گوتم بدھ کون تھے؟

گوتم بدھ ،اساطیر کا حصہ نہیں تھے بلکہ ایک جیتی جاگتی شخصیت تھے۔ مورخین کا خیال ہے کہ ان کی پیدائش چھٹی سے چوتھی صدی قبل مسیح میں لمبنی، کپل وستو کے قریب( موجودہ نیپال) میں ہوئی جب کہ ان کی وفات کشی نگر، مملکتِ مگدھ(موجودہ اترپردیش)میں ہوئی۔

بریٹینیکا کے مطابق "بدھ" کا مطلب ہوتا ہے،ایسا روشن ضمیر یا بیدار انسان ، جو جہالت کی نیند سے جاگ چکا ہو اور دکھ و تکلیف سے نجات حاصل کر چکا ہو۔

گوتم بدھ  کا خاندانی نام گوتم ، جبکہ ان کا ذاتی نام سدھارتھ تھا۔ان کی زندگی کے بارے میں معلومات بنیادی طور پر بدھ مت کی مذہبی کتابوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ ان میں سے ابتدائی کتابیں بھی ان کی وفات کے کئی صدیوں بعد، عیسوی دور کے آغاز سے کچھ پہلے تحریری شکل میں مرتب کی گئیں۔ اس لیے ان میں بیان کیے گئے واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ تاریخی  نہیں کہا جا سکتا، اگرچہ جدید محققین اس بات پر متفق ہیں کہ گوتم بدھ ایک حقیقی تاریخی شخصیت تھے۔روایات کے مطابق گوتم بدھ نے 80 سال کی عمر پائی، لیکن ان کی وفات کی صحیح تاریخ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بدھ مت کی مختلف روایات میں ان کے "نروان" میں داخل ہونے کی تاریخ 2420 قبل مسیح سے لے کر 290 قبل مسیح تک بیان کی گئی ہے۔

گوتم بدھ کی زندگی اور تعلیمات

گوتم بدھ کی اصل تعلیمات کیا تھیں؟یہ تو پتہ نہیں مگر موجودہ دور میں جو بتایا جاتا ہے، اس کے مطابق بدھ مت میں مانا جاتا ہے  کہ پوری کائنات کرم (اعمال کے قانون) کے مطابق چلتی ہے۔ اس قانون کے تحت اچھے اعمال مستقبل میں خوشی کا سبب بنتے ہیں، جبکہ برے اعمال تکلیف اور دکھ پیدا کرتے ہیں۔ بدھ مت کے مطابق تمام جاندار ازل سے مسلسل چھ مختلف جہانوں میں جنم لیتے اور مرتے رہتے ہیں۔بدھ مت میں بار بار جنم لینے اور مرنے کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کو "سنسار" کہا جاتا ہے، جس کے لفظی معنی ہیں "بھٹکتے رہنا"۔ بدھ مت کے مطابق سنسار دکھ اور تکلیف کی دنیا ہے، اور بدھ مت کی عملی تعلیمات کا سب سے بڑا مقصد انسان کو اس دائمی دکھ سے نجات دلانا ہے۔

گوتم بدھ کی زندگی کے حالات مختلف انداز میں محفوظ کیے گئے ہیں۔ ان میں سب سے قدیم روایت وہ خطبات اور تعلیمات ہیں جنہیں خود گوتم بدھ سے منسوب کیا جاتا ہے۔

ان سوتروں میں بدھ اپنی زندگی کے بعض اہم واقعات خود بیان کرتے ہیں، خصوصاً اس وقت سے جب انہوں نے ایک شہزادے کی حیثیت سے دنیاوی زندگی ترک کی، یہاں تک کہ چھ سال کی ریاضت اور جستجو کے بعد انہیں روشن ضمیری (بودھی) حاصل ہوئی۔ سوتروں میں ان کے روشن ضمیر ہونے کے مختلف واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ابتدائی سوتر بدھ کی پیدائش اور بچپن کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

بریٹانیکا کے مطابق بدھ اپنی تعلیمات پر مشتمل مذہبی متون اور اپنے مجسموں کی صورت میں بھی دنیا میں موجود سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ بدھ کی زندگی میں ان کے مجسمے بنائے گئے تھے۔ہندوستانی فن کے ماہرین عرصۂ دراز سے اس بات پر غور کرتے رہے ہیں کہ بدھ مت کے ابتدائی آثار میں بدھ کی انسانی شکل کیوں نظر نہیں آتی۔ ان آثار کی بنیاد پر بعض محققین نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ابتدائی بدھ مت میں بدھ کی جسمانی شکل بنانے کی اجازت نہیں تھی، بلکہ ان کی نمائندگی صرف علامتوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔

حالانکہ موجودہ بدھ مت میں باقاعدہ مذہبی رسم کے ساتھ نصب کیے گئے بدھ کے مجسمے عبادت کا ایک اہم حصہ ہیں۔

چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی بدھ خانقاہوں میں عموماً ایک خاص کمرہ ہوتا تھا جسے خوشبودار حجرہ کہا جاتا تھا۔ اس میں بدھ کا مجسمہ رکھا جاتا تھا، اسے بدھ کی رہائش گاہ تصور کیا جاتا تھا، اور اس کی خدمت کے لیے مخصوص راہب مقرر ہوتے تھے۔

اقبال اور گوتم بدھ

 اقبال کی نظر میں گوتم بدھ ایک عظیم تاریخی شخصیت ہیں اور ہندوستان کی روحانی تاریخ کا روشن باب ہیں۔

اقبال کے نزدیک گوتم بدھ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے انسان کو نفرت، ظلم اور طبقاتی امتیاز سے نجات دلانے کی کوشش کی۔ بدھ نے محبت، رحم، عدمِ تشدد اور ہمدردی کا درس دیا۔ہندوستان میں جب طبقاتی کشمکش عام تھی اور اونچ نیچ کا بھیدبھائو تھا تب انہوں نے انسانی مساوات کا درس دیا تھا۔ اقبال ان اخلاقی اقدار کی قدر کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی شاعری بھی انسان کے احترام، خودی کی تعمیر اور اخلاقی بلندی کا پیغام دیتی ہے۔

تاہم اقبال بدھ مت کے بعض فلسفیانہ تصورات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک زندگی کا مقصد دنیا سے فرار اختیار کرنا نہیں بلکہ اس کی تعمیر اور اصلاح ہے۔ اقبال "خودی" کے فلسفے کے ذریعے انسان کو فعال، پرعزم اور تخلیقی کردار ادا کرنے کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بدھ مت کی بعض روایتی تعبیرات انسان کو ترکِ دنیا اور خواہشات کی نفی کی طرف لے جاتی ہیں۔

اقبال کی نظر میں مذہب کا اصل مقصد انسان کے باطن کی اصلاح کے ساتھ ساتھ معاشرے کی تعمیر بھی ہے۔ اسی لیے وہ ایسی روحانیت کے قائل ہیں جو انسان کو دنیا کے مسائل سے بے نیاز نہ کرے بلکہ اسے ظلم، استحصال اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد پر آمادہ کرے۔ اس تناظر میں وہ بدھ کی شخصیت کا احترام کرتے ہیں، مگر اسلام کی تعلیمات کو زیادہ جامع، متوازن اور عملی نظامِ حیات قرار دیتے ہیں۔

اقبال نے گوتم بدھ ،ان کے اثرات اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کیا تھا۔ یہ بات ان کے لئے اس لئے بھی ضروری تھی کہ اقبال کی پی ایچ ڈی کا موضوع ایرانی فلسفہ تھااور گوتم بدھ کے اثرات ایران تک پھیلے ہوئے تھے۔وہ اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:

"اس تصور کے نشوونما  پر ان ہندو زائرین کا اثر پڑا ہوگا جو ایران میں سے ہوتے ہوئے ،اُن بودھی مندروں کو جایا کرتے تھے  جو اُس وقت باکو میں موجود تھے ۔ اس مکتب کو حسین منصور نے بالکل وحدت الوجودی بنا دیا اور ایک سچے ہندو ویدانتی کی طرح انا الحق (اہم برہما اسمی) چلا اٹھا ۔

فلسفہ عجم۔ صفحہ111

اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال نے ایرانی فلسفے پر گوتم بدھ کے اثرات کا مطالعہ گہرائی سے کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے گوتم بدھ کی تعلیمات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی تھی۔وہ اسی مقالے میں لکھتے ہیں:

"بدھ کے نزدیک نجات اُس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب کہ خواہشات کو مٹاکر سالمات نفس کو بھو کا مارا جائے۔"

 فلسفہ عجم، صفحہ، 185(اقبال کی پی ایچ ڈی کا مقالہ)ناشر تصدق حسین تاج، حیدرآباد دکن

ان تحریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال نے نہ صرف گوتم بدھ کی حیات، تعلیمات اور اثرات کا گہرائی سے مطالعہ کیا تھا بلکہ انہیں پسند بھی کیا تھا۔

اقبال کی شاعری میں گوتم بدھ

اقبال نے گوتم بدھ کی تعریف متعدد مقامات پر کی ہے ایک تو انہوں نے اپنی نظم" نانک" کے کچھ اشعار میں انہیں سراہا ہے تودوسری طرف اپنی مشہور طویل فارسی نظم "جاویدنامہ" میں ان کے ساتھ ایک تخیلاتی ملاقات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے۔ نظم نانک میں وہ کہتے ہیں:

قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی

قدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی

یعنی  ہندوستانی قوم نے گوتم بدھ کی تعلیمات کی صحیح قدر نہیں کی۔ بدھ ایک بے مثال اور نایاب ہستی تھے، لیکن ان کی قوم نے ان کی عظمت کو نہ پہچانا۔ "گوہرِ یک دانہ" سے مراد ایسا انمول موتی ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ یہاں گوتم بدھ کو ایک نایاب موتی سے تشبیہ دی گئی ہے۔

آہ بدقسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر

غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر

اس شعر میں اقبال افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ حق کی آواز سے بے خبر رہے۔ وہ درخت کی مثال دیتے ہیں جو اپنے ہی پھل کی مٹھاس سے واقف نہیں ہوتا،اس کی شیرینی کو وہ لوگ جانتے ہیں جو اس کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ اسی طرح ایک قوم اکثر اپنے ہی عظیم افراد کی قدر نہیں کر پاتی، جبکہ دوسرے لوگ ان کی عظمت کو پہچان لیتے ہیں۔

آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا

ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا

اس شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ گوتم بدھ نے انسان کو زندگی کا اصل راز سمجھانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اخلاق، ضبطِ نفس اور روحانی پاکیزگی کا راستہ دکھایا،نیز دنیاوی تکلیفوں سے آزاد ہوکر "نروان" کا راستہ دکھایا لیکن ہندوستان کے اہلِ علم اس زمانے میں مجرد اور خیالی فلسفوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ اس لیے وہ بدھ کے عملی پیغام کی اہمیت کو پوری طرح نہ سمجھ سکے۔

شمعِ حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی

بارشِ رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی

اقبال یہاں نہایت خوبصورت استعارہ استعمال کرتے ہیں۔ "شمعِ حق" سے مراد گوتم بدھ کی سچی اور روشن تعلیمات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جس معاشرے میں یہ پیغام پہنچا، وہ اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ جیسے بارش تو خوب برستی ہے، لیکن اگر زمین بنجر ہو تو اس سے کوئی فصل نہیں اگتی۔ اسی طرح بدھ کی تعلیمات عظیم تھیں، مگر معاشرہ ان سے فائدہ اٹھانے کے قابل نہ تھا۔

برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں

شمعِ گوتم جل رہی ہے محفلِ اغیار میں

اس  شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ روایتی مذہبی طبقہ آج بھی خود پسندی میں مست ہے، جبکہ گوتم بدھ کی تعلیمات ہندوستان سے باہر زیادہ عزت اور قبولیت حاصل کر چکی ہیں۔ "محفلِ اغیار" سے مراد چین، جاپان، سری لنکا، تھائی لینڈ، میانمار، تبت اور دوسرے وہ ممالک ہیں جہاں بدھ مت کو قبول کیا گیا اور گوتم بدھ کی تعلیمات کو اپنایا گیا۔

awaz

جاویدنامہ میں گوتم بدھ کا تذکرہ

 اقبال نے اپنی طویل فارسی نظم "جاوید نامہ" میں گوتم بدھ کو انتہائی ادب واحترام  کے ساتھ یاد کیا ہے۔اس نظم میں تخیلاتی طور پر رومی ،اقبال کو عالم بالا کی سیر کے لئے  لے جاتے ہیں۔اس سیر کے دوران اقبال کی ملاقات "طاسین" کے مقام میں گوتم بدھ سے ہوتی ہے۔گوتم بدھ کے اعلیٰ اخلاق وکردار کو نمایاں کرتے ہوئے اقبال نے کہا ہےکہ

مئے دیرینہ و معشوق جوان چیزے نیست

پیش صاحب نظران حور جنان چیزے نیست

یعنی پرانی شراب، جوان محبوب یا جنت کی حوریں بھی صاحبِ بصیرت لوگوں کی نظر میں اصل مقصد نہیں ہیں۔ وہ ان ظاہری نعمتوں سے آگے بڑھ کر خدا کی معرفت، عشقِ حقیقی اور روحانی کمال کو اہم سمجھتے ہیں۔ اس شعر کے پیچھے گوتم بدھ کی وہ کہانی ہے کہ انہوں نے راج پاٹ اور بیوی کو چھوڑ دیا تھا اور حق کی تلاش میں نکل پڑے تھے۔

ہر چہ از محکم و پایندہ شناسی گزرد

کوہ و صحرا و بر و بحر و کران چیزے نیست

یعنی جو شخص حقیقت کو پہچان لیتا ہے، اس کے نزدیک پہاڑ، صحرا، خشکی، سمندر اور دنیا کی تمام وسعتیں بھی مستقل حقیقت نہیں رہتیں۔ سب کچھ فنا ہونے والا ہے، صرف اللہ کی ذات باقی رہنے والی ہے۔

دانش مغربیان فلسفہ مشرقیان

ہمہ بتخانہ و در طوف بتان چیزے نیست

اقبال کہتے ہیں کہ اگر مغرب کی دانش اور مشرق کا فلسفہ انسان کو خدا تک نہ پہنچائے تو یہ سب بت خانے کے گرد طواف کرنے کے مترادف ہیں۔ یعنی صرف عقل اور فلسفہ کافی نہیں، اصل چیز ایمان اور روحانی بصیرت ہے۔یہ بات اس ضمن میں کہنے کا سبب یہ ہے کہ گوتم بدھ کی تلاش وجستجو محض عقل و فلسفہ تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے روحانی بصیرت کے ساتھ اپنی کوشش جاری رکھی تھی۔ کہاجاتا ہے کہ انہوں نے ایک بیمار کو دیکھا تو زندگی کی حقیقت پر غور کرنے لگے اور پھر ایک میت کو جاتے دیکھا تو زندگی کی ناپائیداری کا احساس ہوا۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے مناظر، انسان روزانہ دیکھتا ہے مگر وہ عبرت حاصل نہیں کرتا جبکہ گوتم بدھ نے نگاہ بصیرت سے دیکھااور زندگی کی حقیقت کو سمجھ لیا۔

از خود اندیش و ازین بادیہ ترسان مگزر

کہ تو ہستی و وجود و جہان چیزے نیست

یعنی اپنی خودی کو پہچانو اور زندگی کی مشکلات سے خوف زدہ نہ ہو۔ اگر خودی مضبوط ہو تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی بے حقیقت ہو جاتی ہے۔اس شعر میں گوتم بدھ کے اس اقدام کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے حکومت اور دنیا کی آسائش چھوڑ کر یہ بتا دیا کہ انسان کا اپنا وجود اور دنیا کوئی چیز نہیں ہے،اصل چیز جو ہے وہ "خودی" ہے۔اسی خودی کا پیغام اقبال کی شاعری کا بھی ماحصل ہے۔

در طریقے کہ بنوک مژہ کاویدم من

منزل و قافلہ و ریگ روان چیزے نیست

یعنی میں نے عشق کی راہ میں اتنی سختیاں برداشت کیں کہ گویا پلکوں کی نوک سے راستہ کھودا۔ اس راستے میں منزل، قافلہ اور صحرا کی ریت کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ عاشق کے لیے اصل چیز مسلسل سفر اور قربِ الٰہی ہے۔اس شعر میں گوتم بدھ کی اس جدوجہد کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے "نروان"حاصل کرنے کی کوشش میں کی۔

بگزر از غیب کہ این وہم و گمان چیزے نیست

در جہان بودن و رستن ز جہان چیزے ہست

یعنی صرف غیبی بحثوں اور قیاس آرائیوں میں نہ پڑو۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔ یہی حقیقی روحانیت ہے۔اس شعر میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ گوتم بدھ نے دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کی غلامی سے چھٹکارہ پالیا تھا۔

آں بہشتے کہ خداے بتو بخشد ہمہ ہیچ

تا جزاے عمل تست جنان ، چیزے ہست

یعنی اگر جنت محض انعام کے طور پر مل جائے تو اس کی قدر کم ہے، لیکن جب جنت انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ بنے تو اس کی حقیقی اہمیت ہوتی ہے۔ اس شعر میں اقبال عمل کی عظمت پر زور دیتے ہیں۔اصل میں اقبال نے اپنی شاعری میں "خودی" کے علاوہ جس پیغام پر زور دیا ہے، وہ حرکت وعمل ہے۔انہیں گیتا نے متاثراسی لئے کیا تھا کہ اس کتاب میں عمل اور جدوجہد کا پیغام ہے۔

راحت جان طلبی راحت جان چیزے نیست

در غم ہم نفسان اشک روان چیزے ہست

مطلب یہ ہے کہ  اگر صرف اپنی راحت چاہتے ہو تو اس کی کوئی بڑی قدر نہیں۔ اصل عظمت یہ ہے کہ انسان دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہو اور ان کے لیے آنسو بہائے۔

چشم مخمور و نگاہ غلط انداز و سرود

ہمہ خوب است ولے خوشتر ازان چیزے ہست

اس کا مطلب یہ ہے کہ نشہ بھری آنکھیں، دلکش نگاہیں اور خوبصورت نغمے اپنی جگہ اچھے ہیں، مگر ان سب سے بڑھ کر بھی ایک حقیقت ہے، اور وہ ہے روحانی حسن، عشقِ حقیقی اور بلند اخلاق۔

حسن رخسار دمے ہست و دمے دیگر نیست

حسن کردار خیالات خوشان چیزے ہست

یعنی چہرے کا حسن عارضی ہے، آج ہے کل نہیں۔ لیکن اچھا کردار، نیک اعمال اور پاکیزہ خیالات ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک انسان کی اصل خوبصورتی اس کے کردار میں ہے، نہ کہ اس کی ظاہری شکل و صورت میں۔

ان اشعار میں اقبال نے گوتم بدھ کے حوالے سے  دنیا کی ظاہری لذتیں، حسن، دولت اور شہرت کو عارضی اور غیر حقیقی بتایا ہے جب کہ خودی، عشق، عمل، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار ہی انسان کی اصل دولت ہیں۔

اقبال نے گوتم بدھ کی شخصیت کو مشرقی حکمت اور روحانی بصیرت کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک بدھ نے انسان کے اندر موجود رحم، محبت اور خیر کے جذبات کو بیدار کیا۔ اقبال اس بات کو بھی اہم سمجھتے ہیں کہ بدھ نے ذات پات، نسلی امتیاز اور سماجی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی، جو اس زمانے کے ہندوستان میں ایک انقلابی قدم تھا۔