نئی دہلی: مدھیہ پردیش کے دھار میں واقع مسجد کمال مولیٰ ،بھوج شالہ میں بسنت پنچمی کے روز نماز سے جڑے تنازع نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ہے۔ ’’ہندو فرنٹ فار جسٹس‘‘ نامی تنظیم نے اس دن مسلمانوں کو وہاں نماز ادا کرنے سے روکنے کی مانگ کی ہے۔ یہ معاملہ چیف جسٹس کی سربراہی والی بنچ کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے جمعرات 22 جنوری کو سماعت کرنے کی بات کہی ہے۔
اس سال بسنت پنچمی اور سرسوتی پوجا کا تہوار جمعہ، 23 جنوری کو ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے مسلمانوں کو ہر جمعہ کو بھوج شالہ کے احاطے میں نماز ادا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن چونکہ اس بار سرسوتی پوجا جمعہ کے دن ہے، اس لیے عدالت اس دن وہاں نماز روکنے کا حکم دے۔
وکیل وشنو شنکر جین کے ذریعے دائر کی گئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ بھوج شالہ کے احاطے میں ماں واگدیوی یعنی سرسوتی کا مندر موجود ہے، جس کی تعمیر 11ویں صدی میں پرمار خاندان کے ایک راجا نے کرائی تھی۔ طویل عرصے تک یہاں ہندوؤں کی پوجا پاٹ ہوتی رہی ہے۔ 7 اپریل 2003 کو اے ایس آئی نے ایک حکم جاری کیا تھا، جس کے تحت ہندوؤں کو ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن پوجا کی اجازت دی گئی، جبکہ مسلمانوں کو ہر جمعہ دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اے ایس آئی کے حکم میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جب بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑے تو کیا انتظام ہوگا؟ بسنت پنچمی سناتن دھرم کے پیروکاروں کے لیے نہایت مقدس تہوار ہے اور اس دن ماں سرسوتی کی روایتی پوجا طویل عرصے سے ہوتی آ رہی ہے۔ جب بھی بسنت پنچمی جمعہ کو آتی ہے تو ایک ساتھ پوجا اور نماز ہونے سے بدنظمی، ٹکراؤ اور بعض اوقات فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
عرضی میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اے ایس آئی نے یادگار کے مذہبی کردار کا تعین کیے بغیر ہی جمعہ کی نماز کی اجازت دی ہے، جو قدیم یادگار اور آثارِ قدیمہ مقامات کے تحفظ سے متعلق قانون (AMASR ایکٹ) کی روح کے خلاف ہے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ 23 جنوری کو بھوج شالہ میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہ دے، اور ساتھ ہی اے ایس آئی اور مقامی انتظامیہ کو اس دن سخت سیکورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی دے۔