نئی نسل میں سائنسی مزاج پیدا کرنا اکیسویں صدی کا اہم تعلیمی تقاضا ہے: ڈاکٹر شمس اقبال

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-09-2026
 نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا اہم تعلیمی تقاضا : ڈاکٹر شمس اقبال
نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا اہم تعلیمی تقاضا : ڈاکٹر شمس اقبال

 



پٹنہ: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا ہے کہ نئی نسل میں سائنسی مزاج پیدا کرنا محض ایک تدریسی ضرورت نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا اہم تعلیمی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سائنسی سوچ کے بغیر نہ اچھی تحقیق ممکن ہے اور نہ ہی تنقید و تخلیق کے تقاضے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ نوجوانوں میں سوال کرنے اور تجربہ کرنے کے ساتھ ساتھ تحقیق اور مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے کا جذبہ پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وہ پٹنہ کے شری کرشن سائنس سینٹر کے آڈیٹوریم میں منعقدہ ’نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ کانکلیو کا انعقاد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کائنات فاؤنڈیشن جہان آباد شری کرشن سائنس سینٹر وزارت ثقافت حکومت ہند اور بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے باہمی اشتراک سے کیا گیا۔

کانکلیو میں بہار کے 24 اضلاع سے تقریباً 250 طلبہ و طالبات نے شرکت کی جن میں 74 مدارس کے طلبہ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر طلبہ میں سائنس کے تئیں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔

ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی سائنسی مزاج تخلیقی و تنقیدی فکر اور اختراع کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو درست سمت فراہم کرنا تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اردو محض شاعری تنقید اور ادبی تحقیق کی زبان نہیں بلکہ اس میں سائنس اور جدید علوم کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو جدید سائنسی علوم کے اظہار اور ترسیل کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے تاکہ نوجوان اپنی زبان کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی سے بہتر طور پر جڑ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو اسی سمت میں ایک منفرد کوشش ہے جہاں سائنس نوجوانوں اور اردو کو ایک مشترکہ فکری پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت شری کرشن سائنس سینٹر پٹنہ کے سینٹر ہیڈ انجینئر سرینواپی کنڈا نے کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو میں بچوں کی بڑی تعداد اور سائنس کے تئیں ان کی دلچسپی دیکھ کر انہیں بے حد خوشی ہوئی۔ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتی ہے اور اگر اس میں سوال کرنے تجربہ کرنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا جذبہ پیدا کیا جائے تو وہ ملک کی سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انجینئر سرینواپی کنڈا نے کہا کہ سائنس کو صرف کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تجربات اور عملی سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے۔ اس سے بچوں میں سائنسی موضوعات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ انہیں عملی زندگی سے جوڑنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی ہے۔

تقریب میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سلیم پرویز بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد ارشاداللہ روبن گروپ آف ہاسپٹلس کے بانی و منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین ارشاد علی اور زینب انٹرنیشنل گرلس پبلک اسکول کٹیہار کے فاؤنڈر چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد خان سمیت متعدد معزز شخصیات اساتذہ اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔

اس سے قبل کائنات فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر سکریٹری شکیل احمد کاکوی نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ انہوں نے مہمانوں اساتذہ طلبہ و طالبات اور دیگر شرکائے کانکلیو کا خیرمقدم کرتے ہوئے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کانکلیو کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں سائنسی ذوق و شوق پیدا کرنا ان کی اختراعی صلاحیتوں کو سامنے لانا اور اردو کے ذریعے سائنسی علوم کے فروغ کی راہیں تلاش کرنا ہے۔

بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سلیم پرویز نے کہا کہ موجودہ دور میں اس نوعیت کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ایسے پروگرام بچوں کے ذہنوں پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان میں نئی چیزیں سیکھنے غور و فکر کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔

بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین محمد ارشاداللہ نے کہا کہ یہ سائنس ایجادات اور اختراعات کا دور ہے۔ ایسے میں نوجوان نسل کو سائنسی سرگرمیوں سے جوڑنا اور ان کے اندر سائنس کا ذوق پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس طرح کے پروگرام بچوں کو سائنسی دنیا سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ سید شمائل احمد ارشاد علی اور ڈاکٹر شکیل احمد خان نے بھی سائنس تعلیم اور نوجوانوں کے باہمی تعلق کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو کے انعقاد کو اہم اور قابل تحسین کوشش قرار دیا۔

افتتاحی اجلاس کے بعد کانکلیو کے مختلف سیشن منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن ’سائنس دانوں سے ملاقات: سائنسی گفتگو اور نوجوان ذہنوں سے مکالمہ‘ میں طلبہ و طالبات کو ماہرین سائنس سے براہ راست گفتگو اور سوال و جواب کا موقع ملا۔ پروفیسر ڈاکٹر ڈولی سنہا ڈاکٹر کماری نمیشا اور انجینئر سرینواپی کنڈا نے سائنسی موضوعات پر گفتگو کی جبکہ ڈاکٹر اظفر احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

دوسرے سیشن ’عملی سائنس: سائنس کے عملی مظاہرے‘ میں مختلف سائنسی اصولوں کو تجربات اور عملی مظاہروں کے ذریعے طلبہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ محمد آفتاب حسین نے سائنسی مظاہرے پیش کیے جبکہ ستیش رنجن نے نظامت کی۔ سیشن کی صدارت ڈاکٹر پروفیسر ارون کمار نے کی۔

تیسرا سیشن ’اردو بازگشت: بیت بازی و طلبہ کا تمثیلی مشاعرہ‘ پر مشتمل تھا جس میں مختلف اسکولوں کے طلبہ نے شرکت کی۔ اس سیشن میں سائنس زبان اور تخلیقی اظہار کے درمیان خوبصورت ربط پیش کیا گیا۔

کانکلیو کا آخری سیشن اختتامی تقریب اور تقسیم انعامات پر مشتمل تھا جس میں مختلف سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں انعامات سے نوازا گیا۔ اس سیشن کی صدارت سابق چیئرمین اردو ایڈوائزری کمیٹی حکومت بہار شفیع مشہدی نے کی جبکہ پروفیسر اعجاز علی ارشد وائس چانسلر مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی پٹنہ اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی چیئرمین فرحان فاؤنڈیشن سمیت دیگر اہم شخصیات مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود تھیں۔