ناگرکوئل (تمل ناڈو):تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ہفتہ کو مرکز کی جانب سے پیش کیے گئے ایف سی آر اے ترمیمی بل 2026 کو "جبر پر مبنی" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے ذریعے اقلیتوں، خصوصاً عیسائی فلاحی تنظیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں یہاں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اسٹالن نے ماہی گیروں کے لیے مالی امداد میں اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مچھلی پکڑنے پر پابندی کے دوران دی جانے والی امدادی رقم، جو پہلے 5 ہزار روپے تھی، اسے بڑھا کر 8 ہزار کیا گیا تھا اور اب اسے مزید بڑھا کر 12 ہزار روپے ماہانہ کیا جائے گا۔
اسی طرح، ماہی گیری کے کام میں سست روی کے دوران دی جانے والی امداد 6 ہزار سے بڑھا کر 9 ہزار روپے ماہانہ کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے مخاطب ہو کر پوچھا، "کیا آپ سب خوش ہیں؟" اور دیگر فلاحی اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے مزید وعدے بھی کیے۔
اسٹالن نے اعلان کیا کہ ماہی گیر ویلفیئر بورڈ کی رکنیت کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 65 سال سے بڑھا کر 70 سال کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 70 سے 75 سال عمر کے افراد کو اضافی ماہانہ پنشن بھی دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی قیادت میں چلنے والی "دراوڑی ماڈل حکومت" ہمیشہ ماہی گیروں کی سچی دوست رہی ہے۔
مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی حکومت ماہی گیروں کے تحفظ میں ناکام رہی ہے اور خارجہ پالیسی میں بھی ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک پر اثر کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سری لنکا کی بحریہ کی جانب سے تمل ناڈو کے ماہی گیروں پر حملے جاری ہیں۔
اسٹالن نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت تمل ناڈو کے ماہی گیروں کو بھارتی شہریوں کے طور پر سنجیدگی سے نہیں لیتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب مرکز میں انڈین نیشنل کانگریس کی حکومت تھی اور ماہی گیروں پر حملے ہوتے تھے تو مودی نے اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو "کمزور" کہا تھا۔ اسٹالن نے سوال کیا کہ کیا اب ایسے واقعات نہیں ہو رہے؟ اور کیا مودی خود کو کمزور وزیر اعظم تسلیم کریں گے؟
انہوں نے مزید کہا کہ مدورائی ایمس جیسے بڑے منصوبے بھی تقریباً ایک دہائی سے مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل پر بات کرتے ہوئے اسٹالن نے الزام لگایا کہ یہ قانون اقلیتوں، خاص طور پر عیسائی اداروں کو نشانہ بناتا ہے اور اس کے نافذ ہونے سے چھوٹی غلطیوں، جیسے دستاویزات جمع کرانے میں تاخیر، پر بھی اداروں کی منظوری منسوخ کی جا سکتی ہے اور فنڈز واپس لیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس قانون کے تحت اسپتالوں، اسکولوں اور ہاسٹلوں کو بھی حکومتی کنٹرول میں لیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ وہ ادارے بھی جو ملکی یا غیر ملکی فنڈز سے قائم کیے گئے ہوں۔