
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی،نئی دہلی
موجودہ دور میں خاندانوں کے تانے بانے بکھر رہے ہیں _ خاندان کی تشکیل کے تھوڑے عرصے کے بعد ہی افرادِ خاندان میں خوش گواری باقی نہیں رہتی ، بلکہ غلط فہمیاں جنم لیتی اور شکایات پیدا ہونے لگتی ہیں اور دن بہ دن تنازعات بڑھتے جاتے ہیں ، یہاں تک کہ بسا اوقات رشتہ ختم کرنے تک کی نوبت آجاتی ہے۔
جماعت اسلامی ہند نے اس میقات میں کونسلنگ کا پروگرام وضع کیا ہے ، جس کے تحت دو کام انجام دیے جا رہے ہیں :
(1) Pre marriage Counseling اس میں شادی سے قبل نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایسے پروگرام کیے جاتے ہیں جن میں انہیں ازدواجی زندگی کے آداب و مسائل سے آگاہ کیا جاتا ہے اور اسلام کی عائلی تعلیمات پیش کی جاتی ہیں۔
(2) Family Counseling Center اس کے تحت ایک کمیٹی تشکیل دی جاتی ہے جو فریقین کی شکایات سن کر ان کے خاندانی تنازعات کو حل کرنے اور افہام و تفہیم کے ذریعے ان کے درمیان خوش گواری لانے کی کوشش کرتی ہے _ جماعت نے پورے ملک میں فیملی کونسلنگ سینٹرس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے _ چنانچہ تمام ریاستوں میں ان کے قیام کی ہدایت دی گئی ہے _
جماعت اسلامی ہند حلقۂ مہاراشٹر کے شعبۂ اسلامی معاشرہ کے تحت ریاست کے 16شہرو ں میں باضابطہ فیملی کونسلنگ سینٹر چلائے جارہے ہیں ۔ مزید 16 شہروں میں اسی طرح کے سینٹرس قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے _ ان تمام سینٹرس میں خدمات انجام دینے والے افراد کی رہ نمائی کے لیے جالنہ شہر میں دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا۔
اس میں کونسلنگ سے متعلق مختلف موضوعات پر رہ نمائی کی گئی _ مثلاً فیملی کونسلنگ : مقصد و ضرورت ، بچوں کی کونسلنگ ، خواتین کی کونسلنگ ، زوجین کی کونسلنگ ، والدین کی کونسلنگ ، رشتے کا انتخاب کیسے کریں؟ ازدواجی زندگی اور بشری کم زوریاں ، سسرالی رشتے کیسے نبھائیں؟ ، ازدواجی زندگی کو کیسے خوش گوار بنائیں؟ وغیرہ ریسورس پرسنس کی حیثیت سے جناب صدیق قریشی ڈائرکٹر سکون فیملی کونسلنگ سینٹر ممبئی ، مولانا عبدالقوی صدیقی فلاحی سکریٹری شعبۂ تحفظ و ترقی حلقہ مہاراشٹر ، مولانا محمد الیاس فلاحی سکریٹری شعبۂ اسلامی معاشرہ حلقہ مہاراشٹر ، مولانا محمد نصیر اصلاحی ناظم مجلس العلماء حلقہ مہاراشٹر ، محترمہ مبشرہ فردوس رکن مجلس نمائندگان ، ڈاکٹر ذکی اور محترمہ صبیحہ خان ناگ پور وغیرہ کو مدعوکیا گیا تھا ۔
اس ورک شاپ میں راقم سطور کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی _ میں نے تین موضوعات پر اظہارِ خیال کیا :
(1) موجودہ زمانے کے فیملی ایشوز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں ان کا حل : اس کے تحت میں نے حسنِ سلوک کا فقدان ، مرد کی قوّامیت ، مشترکہ خاندانی نظام اور عورت کی ملازمت سے متعلق مسائل کا تذکرہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور عہد نبوی کے واقعات کی روشنی میں ان کا حل پیش کیا _
(2) پری میرج کونسلنگ : کیوں اور کیسے؟ : اس کے تحت میں نے بتایا کہ کونسلنگ کا مقصد زوجین کے درمیان مودّت و محبت ، ہم آہنگی اور سکون ہے _ شادی سے قبل نوجوان لڑکوں کی عمومی کونسلنگ ہونی چاہیے ، جس کے تحت اسلام کی عائلی تعلیمات بیان کی جائیں ، تاکہ نکاح کے بعد زوجین ایک دوسرے کے حقوق پہچانیں اور انفرادی کونسلنگ کے تحت ان نکات پر فریقین کے درمیان افہام و تفہیم ہوجانی چاہیے جن سے ان کے درمیان بعد میں ہم آہنگی پیدا ہوسکے اور تنازعات پیدا نہ ہوں _
(3) کونسلنگ کے لیے علمی تیاری : اس کے تحت میں نے بتایا کہ کونسلر کی ذمے داری ہے کہ وہ کونسلنگ کی بنیادی معلومات ، علم نفسیات اور ملکی قوانین کے ساتھ مسلم پرسنل لا سے متعلق بھی ضروری معلومات رکھے اور اس کے تحت آنے والے موضوعات پر اسے دست رس حاصل ہو _
اس ورک شاپ میں تقریباً ڈیڑھ سو افراد شریک ہوئے ، جن میں ایک تہائی تعداد خواتین کی تھی _ ایک سیشن میں شرکاء کے 7گروپ بنائے گئے _ ہر گروپ کو خاندانی تنازعہ کا ایک کیس دیا کہ وہ باہم مشاورت سے اسے حل کرے _ پھر ہر گروپ لیڈر نے اپنے گروپ میں ہونے والے ڈسکشن کا خلاصہ پیش کیا _ جناب صدیق قریشی صاحب نے اس پر کمنٹ کیا اور مناسب رہ نمائی فراہم کی _ تقاریر پر شرکاء کو سوالات کا موقع دیا جاتا تھا ، جن کے مقررین جوابات دیتے تھے _ پروگرام کے آخر میں اوپن سیشن بھی رکھا گیا تھا _
شرکاء کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ انہیں اس ورک شاپ سے بہت فائدہ ہوا اور انہیں کونسلنگ کا تجربہ حاصل ہوا _ جماعت کا منصوبہ ہے کہ فیملی کونسلنگ سینٹرس ملک کی تمام ریاستوں میں قائم کیے جائیں _ اس کے لیے کونسلنگ سے دل چسپی رکھنے والے مردوں اور خواتین کے ایسے ورک شاپس تمام ریاستوں میں منعقد کیے جائیں گے ، ان شاء اللہ _