گوہاٹی: گوہاٹی ہائی کورٹ نے آسام حکومت کو ہدایت دی ہے کہ بنگلہ دیش بھیجی گئی دو خواتین کے اہل خانہ کو عبوری معاوضے کے طور پر دو، دو لاکھ روپے ادا کیے جائیں۔ ان دونوں خواتین کو فارنرز ٹریبونل نے غیر ملکی قرار دیا تھا اور اہل خانہ کو ان کی ملک بدری کی اطلاع دیے بغیر انہیں بنگلہ دیش بھیج دیا گیا تھا۔ دو الگ الگ عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس کلیان رائے سرانا اور جسٹس سشمتا پھوکن کھوند کی ڈویژن بنچ نے 3 ستمبر کے اپنے حکم میں دونوں خواتین، ممتاز بیگم اور جہاں آرا بیگم، کے معاملات میں وزارت خارجہ کو فریق بنایا۔ دونوں خواتین کو ناگاؤں کے جوریہ میں قائم فارنرز ٹریبونل نے غیر ملکی قرار دیا تھا۔
ممتاز بیگم کے معاملے میں ان کے شوہر مزمل حق نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی، جبکہ جہاں آرا بیگم کے معاملے میں ان کے بیٹے مجاہد الاسلام نے عرضی داخل کی تھی۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت صرف شہریوں کو ہی نہیں بلکہ غیر شہریوں کو بھی دیتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ دونوں خواتین کو اپنی شہریت سے متعلق ٹریبونل کے احکامات کو چیلنج کرنے کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے اپنے قانونی حق سے محروم کر دیا گیا۔ ممتاز بیگم کو 2015 میں درج ایک معاملے میں 6 جون 2019 کو ٹریبونل نے غیر ملکی قرار دیا تھا۔ دونوں معاملات میں یکساں احکامات جاری کرتے ہوئے بنچ نے کہا، ’’چونکہ حراست میں لیے گئے شخص کو درخواست گزار یا اس کے خاندان کے کسی بالغ رکن کو اطلاع دیے بغیر ہندوستان سے ملک بدر کر دیا گیا، اس لیے عدالت عبوری راحت کے طور پر آسام حکومت کو درخواست گزاروں کو دو، دو لاکھ روپے کا عبوری معاوضہ دینے کی ہدایت کرنا مناسب سمجھتی ہے۔‘‘
یہ معاوضہ عدالت کے حکم کی نقل موصول ہونے کے 60 دن کے اندر ادا کرنا ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ معاملے میں وزارت خارجہ کو فریق بنانا ضروری ہے، ’’تاکہ اگلی تاریخ پر بنگلہ دیش میں خواتین کا سراغ لگانے، انہیں واپس لانے اور انہیں اپنا قانونی راستہ اختیار کرنے کا موقع دینے کے لیے ضروری احکامات یا ہدایات جاری کی جا سکیں۔‘‘
ہائی کورٹ نے کہا کہ دونوں معاملات میں حکام خواتین کو فارنرز ٹریبونل کے احکامات کی نقول فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ ان کے خاندان کے بالغ افراد کو بھی ان کی گرفتاری اور ملک بدری کے بارے میں اطلاع نہیں دی گئی۔ عدالت نے دونوں معاملات کی اگلی سماعت 24 ستمبر کو مقرر کی ہے۔