نئی دہلی: آواز دی وائس
موجودہ دور میں مسلمانوں کی ترقی اور باوقار مستقبل کے لیے تعلیم کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ نوجوان سیاسی سرگرمیوں میں الجھنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حصول پر مرکوز کریں۔جامعہ سید احمد شہید، لکھنؤ کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے معروف تعلیمی و سماجی شخصیت ظفر سریش والا نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم حاصل کرنے اور اپنے منتخب شعبے میں مہارت پیدا کرنے کا مشورہ دیا۔ظفر سریش والا نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں مسلمانوں کو سیاست میں ضرورت سے زیادہ الجھنے کے بجائے تعلیم کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران ووٹ تو حاصل کرتی ہیں، لیکن مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی اور مطلوبہ مواقع ہمیشہ نہیں ملتے۔ اس لیے نوجوانوں کو اپنی ترجیحات طے کرتے ہوئے تعلیم کو اولین مقام دینا چاہیے۔
انہوں نے مدارس کے طلبہ سے کہا کہ صرف عالم یا مولوی بن کر فارغ ہونا کافی نہیں، بلکہ دینی علوم کے کسی ایک شعبے میں تخصص حاصل کرنا ضروری ہے۔ فقہ، حدیث، قرآن اور تفسیر جیسے شعبوں میں اعلیٰ مہارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے واقفیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ظفر سریش والا نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں اپنے دورِ صدارت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مدارس کے طلبہ کو یونیورسٹی کی تعلیم سے جوڑنے کے لیے برج کورس شروع کیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے طلبہ ایک سال کی تیاری کے بعد انجینئرنگ، فارمیسی، اکاؤنٹس اور قانون جیسے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مدارس کے طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات بھی دینے چاہئیں، تاکہ عالمیت مکمل کرنے کے بعد وہ یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں۔ انہوں نے نیشنل اوپن اسکول کے ذریعے مدارس میں دسویں اور بارہویں کی تعلیم کے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ دینی علوم اور جدید تعلیم کا امتزاج نوجوانوں کے لیے روزگار اور خدمت کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ آج ایسے افراد کی ضرورت ہے جو عالم دین ہونے کے ساتھ انجینئر، فارماسسٹ، وکیل، مالیاتی ماہر یا سائنس کے کسی شعبے کے ماہر بھی ہوں۔
ظفر سریش والا نے حلال سرٹیفیکیشن اور اسلامک فنانس جیسے شعبوں کو مستقبل کے اہم مواقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں میں ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو اسلامی احکام کے ساتھ سائنس، تجارت اور مالیات کو بھی سمجھتے ہوں۔ انہوں نے مولانا تقی عثمانی کو دینی علوم کے ساتھ مالیاتی امور میں مہارت رکھنے والی شخصیت کی مثال کے طور پر پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور تخصص اور اسپیشلائزیشن کا ہے۔ جس طرح طب اور قانون کے مختلف شعبوں میں الگ الگ ماہرین ہوتے ہیں، اسی طرح دینی علوم میں بھی مفتیوں اور علما کو مخصوص شعبوں میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔ مالیات، حلال و حرام، خاندانی معاملات اور وقف جیسے شعبوں کے لیے الگ الگ ماہرین کی ضرورت ہے۔
طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جس بھی شعبے کا انتخاب کریں، اس میں ایسی مہارت حاصل کریں کہ لوگ خود ان کی خدمات حاصل کرنے کے لیے ان تک پہنچیں۔ظفر سریش والا نے کہا کہ قابلیت کی بنیاد تعلیم ہے، تاہم تعلیم کے ساتھ ایمانداری اور امانت داری بھی ضروری ہے۔ جب علم، مہارت، دیانت اور محنت ایک ساتھ جمع ہوجائیں تو کامیابی کے مواقع خود پیدا ہوتے ہیں۔
انہوں نے مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب کو سمجھنے کے لیے مولانا علی میاں ندوی کی کتاب "ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمين" کے مطالعے کی بھی طلبہ کو ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے تاکہ وہ سمجھ سکے کہ مسلمانوں کا عروج کن عوامل سے ہوا اور زوال کے اسباب کیا تھے۔انہوں نے طلبہ کو پیغام دیا کہ موجودہ دور ماہرین کا دور ہے، اس لیے انہیں صرف کسی ایک سند یا ڈگری تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنے منتخب شعبے میں اعلیٰ ترین مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ دینی تعلیم کے ساتھ عصری علوم کا امتزاج ہی نوجوانوں کو بدلتی ہوئی دنیا میں مؤثر، باوقار اور باصلاحیت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔