میر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی، روانی اور دل کو چھو لینے والی نغمگی ہے۔۔ پروفیسر احمد محفوظ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-07-2026
میر کے ہر شعر میں موسیقیت، آہنگ اور داخلی نغمگی کی ایک منفرد دنیا آباد ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ
میر کے ہر شعر میں موسیقیت، آہنگ اور داخلی نغمگی کی ایک منفرد دنیا آباد ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ

 



سری نگر: میر تقی میر کی شاعری میں پوشیدہ موسیقیت اور غنائیت کو اجاگر کرتے ہوئے ممتاز اردو اسکالر، شاعر اور نقاد پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ میر کا کلام محض شعری حسن تک محدود نہیں بلکہ اس میں آہنگ، بحر، وزن اور نغمگی کی ایسی دل کش کیفیت موجود ہے جو ہر دور کے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ وہ چنار بک فیسٹیول 2026 میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان سے شائع ہونے والی پروفیسر شفق سوپوری کی کتاب ’’میر تقی میر کی غزلیہ شاعری کا غنائی پہلو‘‘ کی تقریبِ اجرا اور اس کے بعد منعقدہ مذاکرے سے خطاب کر رہے تھے۔

چنار بک فیسٹیول کے چوتھے روز بھی میلے میں کتاب دوستوں، طلبہ، محققین اور ادبی شخصیات کی بڑی تعداد موجود رہی۔ دن بھر مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے درمیان پروفیسر شفق سوپوری کی اس نئی تصنیف کی رونمائی تقریب کا مرکزِ نگاہ بنی۔

تقریب میں ممتاز اردو اسکالر پروفیسر احمد محفوظ، کتاب کے مصنف پروفیسر شفق سوپوری، یونیورسٹی آف جموں کے شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر شہاب عنایت ملک اور یونیورسٹی آف کشمیر کے سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ آن لائن ایجوکیشن کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد الطاف انجم نے اظہار خیال کیا، جبکہ رسالہ تفہیم کے مدیر عمر فرحت نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔

پروفیسر شہاب عنایت ملک نے کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ میر کی شاعری کے غنائی پہلو پر اس نوعیت کی تحقیق اردو تنقید میں ایک اہم اضافہ ہے۔ پروفیسر محمد الطاف انجم نے بھی اس موضوع کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب نے میر کے فنی محاسن کو ایک نئے تناظر میں سمجھنے کی راہ ہموار کی ہے۔

پروفیسر احمد محفوظ نے اپنی گفتگو میں میر کی غزلوں سے مثالیں پیش کرتے ہوئے عروض، بحر، وزن اور موسیقیت کے باہمی تعلق کو واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنف نے میر کے کلام کا ایک ایسا پہلو نمایاں کیا ہے جس نے میریات کے تحقیقی سرمائے کو مزید وسعت دی ہے۔

صاحبِ کتاب پروفیسر شفق سوپوری نے بتایا کہ اس تصنیف کی بنیاد قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام 2024 میں منعقدہ میر سیمینار میں پیش کیے گئے ان کے تحقیقی مقالے پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شمس اقبال اور پروفیسر احمد محفوظ کی حوصلہ افزائی کے بعد اس مقالے کو ایک مکمل کتاب کی صورت دی گئی۔ ان کے مطابق میر کی شاعری کی روانی اور نغمگی نے ہی انہیں اس موضوع پر تفصیلی تحقیق کی جانب راغب کیا۔

اسی روز ’’ڈیجیٹل عہد میں اردو کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز مذاکرہ بھی منعقد ہوا۔ اس نشست میں خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ کے ڈائریکٹر پروفیسر محمد زاہد الحق اور ماہر تعلیم شاہد شفیع ایتو نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ معروف صحافی اور آرٹسٹ نذیر گنائی نے نظامت کی۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ اردو زبان کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے مضبوط رشتہ قائم کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل تک اردو کی رسائی جدید ٹیکنالوجی اور آن لائن ذرائع کے مؤثر استعمال سے ہی ممکن ہے۔

پروفیسر محمد زاہد الحق نے خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں محفوظ نادر مخطوطات کے تحفظ اور ان کی ڈیجیٹل دستاویز سازی کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’کتاب الحشائش‘‘ اور ’’کتاب التصریف‘‘ جیسے ہزار سال قدیم مخطوطات کو جدید سائنسی طریقوں سے محفوظ کیا جا رہا ہے اور جلد ہی انہیں سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے عوام کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔شاہد شفیع ایتو نے جنوبی کشمیر کی اقبال لائبریری میں جاری ڈیجیٹل تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جدید وسائل کی بدولت یہ ادارہ ایک ہمہ گیر لائبریری کی شکل اختیار کر رہا ہے، جہاں بچوں اور نوجوانوں کے لیے نئے تعلیمی امکانات پیدا کیے جا رہے ہیں۔

مذاکرے میں معروف صحافی اشرف بستوی اور ڈاکٹر عبدالحی نے بھی اپنے خیالات پیش کیے اور اردو صحافت، ڈیجیٹل میڈیا اور نئی ٹیکنالوجی سے متعلق اپنے تجربات حاضرین کے ساتھ شیئر کیے۔دونوں نشستوں میں طلبہ، طالبات، محققین اور اردو اسکالروں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ شرکا نے مقررین سے مختلف موضوعات پر سوالات کیے جن کے تفصیلی جوابات دیے گئے۔ مقررین نے چنار بک فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور نیشنل بک ٹرسٹ ہندوستان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ادبی میلے زبان و ادب کے فروغ اور نئی نسل میں مطالعے کے ذوق کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔