جے پور: ہندوستان کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ہفتہ کو کہا کہ قانون کی حکمرانی (رول آف لا) کا مقصد ہر تنازع کا عدالتی فیصلہ کرانا نہیں، بلکہ ہر شہری کو اس کی عزت و وقار کے ساتھ بروقت اور آسانی سے انصاف فراہم کرنا ہے۔ کامن ویلتھ پیس میڈی ایشن اینڈ رول آف لا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ انصاف کے نظام کا مقصد ایسے حل فراہم کرنا ہونا چاہیے جو مؤثر، انسانی اقدار پر مبنی اور سب کے لیے قابلِ رسائی ہوں۔
انہوں نے کہا، "قانون کی حکمرانی یہ نہیں کہتی کہ ہر شکایت کا فیصلہ عدالت میں ہی ہو، بلکہ یہ یقینی بناتی ہے کہ ہر شہری کو باوقار انداز میں بروقت اور آسان انصاف حاصل کرنے کا موقع ملے۔" چیف جسٹس نے ثالثی (میڈی ایشن) کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں تنازع کے فریق خود اپنے مسئلے کا حل طے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "صرف ثالثی ہی ایسا نظام ہے جس میں فریقین اپنے تنازع کا حل خود تیار کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے تنازع کی اصل وجوہات کا نسبتاً کم وقت اور کم لاگت میں مؤثر حل ممکن ہو جاتا ہے۔" انہوں نے کہا کہ ثالثی کے ذریعے فریقین سخت قانونی دلائل سے آگے بڑھ کر زیادہ بامعنی اور عملی حل تک پہنچ سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں باہمی تعلقات کو برقرار رکھنا ضروری ہو۔
چیف جسٹس نے ثالثی کی فلسفیانہ اور عملی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار جدید تقاضوں کے مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ تنازعات کے حل کی ہماری قدیم روایت سے بھی ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بڑھتے ہوئے مقدمات اور پیچیدہ تنازعات کے پیش نظر عدالتی نظام کی ترقی کے ساتھ ثالثی کا کردار مزید اہم ہوتا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ثالثی کا یہ نظام ہماری قدیم تہذیبی روایت جتنا پرانا ہے اور پیر کی صبح عدالتوں میں مقدمات کی فہرست جتنی ہی آج کی ضرورت بھی ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر چیف جسٹس نے کانفرنس کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔