نئی دہلی:سپریم کورٹ نے منگل کے روز انوپ ماجھی کو دی گئی عبوری ضمانت کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی درخواست پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ یہ کیس مبینہ غیر قانونی کوئلہ کان کنی اور منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔
جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بینچ نے اس معاملے میں انوپ ماجھی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ ای ڈی نے دہلی ہائی کورٹ کے گزشتہ سال جون کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ماجھی کو عبوری ضمانت دی گئی تھی۔ یہ مقدمہ 2020 میں درج کیا گیا تھا۔
ای ڈی کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے مؤقف اختیار کیا کہ ماجھی 2700 کروڑ روپے کے مبینہ گھپلے کا “مرکزی کردار” ہے، جس میں قومی وسائل کی لوٹ مار شامل ہے۔ سماعت کے دوران بینچ نے سوال کیا کہ جب ماجھی سی بی آئی کی تحویل میں تھا تو اس وقت ای ڈی نے اسے اپنی تحویل میں کیوں نہیں لیا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم طویل عرصے تک مفرور رہا اور اس کے خلاف مضبوط شواہد موجود ہیں۔
دوسری جانب عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کیا ملزم نے تفتیش میں تعاون کیا ہے؟ جس پر ای ڈی نے کہا کہ ضمانت ملنے کے بعد اس نے کچھ حد تک تعاون کیا ہے۔ انوپ ماجھی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل نے 13 مرتبہ ایجنسی کے سامنے پیش ہو کر مکمل تعاون کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت ستمبر کے لیے مقرر کرتے ہوئے ای ڈی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔