ای ڈی کی چار ریاستوں میں چھاپہ کاروائی، بنگلہ دیشی اور روہنگیا کی تحقیقات

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 16-07-2026
ای ڈی کی چار ریاستوں میں چھاپہ کاروائی، بنگلہ دیشی اور روہنگیا کی تحقیقات
ای ڈی کی چار ریاستوں میں چھاپہ کاروائی، بنگلہ دیشی اور روہنگیا کی تحقیقات

 



 نئی دہلی:انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بنگلہ دیشی اور روہنگیا شہریوں کی مبینہ غیر قانونی دراندازی سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جمعرات کو چار ریاستوں میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے، جن میں مغربی بنگال کے سرحدی اضلاع بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ای ڈی ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کی جانچ کر رہی ہے جو فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت رجسٹرڈ ایک فلاحی ٹرسٹ کے ذریعے سرگرم تھا اور جسے برطانیہ کی بعض تنظیموں سے چندہ ملا تھا۔ ای ڈی نے منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت اتر پردیش کے دیوبند (سہارنپور)، دہلی کے جامعہ نگر، ہریانہ کے بلبھ گڑھ (فرید آباد) اور مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ، شمالی 24 پرگنہ اور مرشد آباد میں تقریباً 13 مقامات پر تلاشی کی کارروائی کی۔

یہ مقدمہ 2024 میں اتر پردیش اے ٹی ایس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں ایک منظم گروہ پر روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل کرانے، ان کے لیے آدھار، پین کارڈ اور پاسپورٹ جیسے جعلی ہندوستانی شناختی دستاویزات تیار کرانے اور انہیں ملک کے مختلف حصوں میں آباد کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔

تحقیقات میں ایک پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورک سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس میں متعدد بینک کھاتوں اور درمیانی افراد کے ذریعے رقوم منتقل کیے جانے کا شبہ ہے۔ ای ڈی کے مطابق چھ، آٹھ اور دس ہزار روپے کی چھوٹی قسطوں میں رقم منتقل کر کے مبینہ طور پر دراندازوں کی آبادکاری میں مدد کی جاتی تھی، حتیٰ کہ انہیں ای-رکشہ، روزگار اور دیگر ذرائع آمدنی بھی فراہم کیے جاتے تھے۔

ای ڈی کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کے بعض سرحدی علاقوں میں سرگرم گروہ غیر قانونی دراندازی میں مدد کرتے تھے، جبکہ دوسرا گروہ ان افراد کے لیے جعلی دستاویزات تیار کر کے انہیں ملک کے مختلف حصوں میں بھیجنے کا کام انجام دیتا تھا۔