پنجی: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 30 ہزار کروڑ روپے کے لین دین والے ملک گیر سائبر فراڈ کیس سے منسلک منی لانڈرنگ معاملے کی تحقیقات کے تحت مزید تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ذرائع نے جمعہ کو یہ اطلاع دی۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں ای ڈی کے پنجی دفتر کی جانب سے کی گئی گرفتاریوں کی تعداد بڑھ کر پانچ ہوگئی ہے۔
اس سے قبل اسی ہفتے ممبئی کے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بھوشن سوریہ کانت موئے، ولاس نارائن پوار اور شیلش دگڑو کو انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت جمعرات کو حراست میں لیا گیا۔ پنجی کی ایک خصوصی عدالت نے تینوں کو یکم ستمبر تک ای ڈی کی حراست میں بھیج دیا ہے۔
ای ڈی نے 23 اگست کو فہیم معین حسین سید اور نعیم معین سید کو گرفتار کیا تھا۔ دونوں فی الحال ای ڈی کی حراست میں ہیں۔ ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی تحقیقات گوا پولیس کی جانب سے 9 جون 2025 کو ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد شروع ہوئی۔ یہ معاملہ گوا کی ایک خاتون سے متعلق ہے، جسے مبینہ طور پر سائبر ٹھگوں نے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کے نام پر اپنے جال میں پھنسایا اور 21 مئی سے 2 جون 2025 کے درمیان مختلف بینک کھاتوں میں 2.60 کروڑ روپے منتقل کرنے پر مجبور کیا۔
ایجنسی کے حکام نے بتایا تھا کہ اس معاملے میں رقم کے لین دین کی تحقیقات اشیائے تجارت، سفری خدمات اور غیر ملکی زرمبادلہ سے متعلق اداروں کے ایک نیٹ ورک تک پہنچی۔ ان اداروں نے 27,850 کروڑ روپے سے زائد کے بینکنگ لین دین کیے تھے، جبکہ 2,904 کروڑ روپے نقد جمع کرائے گئے تھے۔
ان اداروں کے بینک کھاتوں کا تعلق 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں درج سائبر فراڈ کی 300 شکایات اور 163 ایف آئی آر سے پایا گیا ہے۔ ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ سائبر جرم کی ایک بڑھتی ہوئی شکل ہے، جس میں مجرم خود کو قانون نافذ کرنے والے افسران، عدالتی اہلکاروں یا سرکاری ایجنسیوں کے ملازمین کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ آڈیو اور ویڈیو کال کے ذریعے متاثرین کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور ان پر رقم ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے ہیں۔