نئی دہلی: اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کے روز کہا کہ 2017 سے پہلے کی حکومتوں کے پاس وسائل تو موجود تھے، لیکن ترقی کا کوئی واضح وژن نہیں تھا۔ وہ سہارنپور میں 613 کروڑ روپے مالیت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ 2017 سے پہلے سہارنپور، مظفر نگر، میرٹھ، علی گڑھ اور متھرا میں بار بار فسادات ہوتے تھے اور فساد و کرفیو عوام کی قسمت بن چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کیرانہ سے لوگوں کی نقل مکانی ہو رہی تھی اور ان علاقوں کو ’’ہندوؤں سے خالی‘‘ بنا دیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اس وقت نہ بیٹیاں محفوظ تھیں اور نہ ہی تاجر۔ ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔ 2011-12 میں مراد آباد میں ڈی آئی جی پر حملہ کیا گیا، مشتعل افراد انہیں مردہ سمجھ کر وہیں چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت نے ان حملہ آوروں کے خلاف مقدمات نہیں چلائے بلکہ ان کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی کوشش کی۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا، ’’جب ہماری حکومت بنی تو ہم نے واضح کیا کہ شرپسندوں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’2017 سے پہلے کی حکومتوں کے پاس پیسہ تو تھا، مگر ترقی کا وژن نہیں تھا۔ سماجوادی پارٹی کے غنڈے یہ رقم ہڑپ کر جاتے تھے یا پھر یہ پیسہ قبرستانوں کی چاردیواری بنانے پر خرچ کیا جاتا تھا، جبکہ آج اسی رقم سے ماں شاکمبھری کوریڈور تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘‘