ڈاکٹر محمد منظور عالم ترغیب کا عظیم ستون ، قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔گرو دیو شری شری روی شنکر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 14-01-2026
ڈاکٹر محمد منظور عالم ترغیب  کا عظیم  ستون ، قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔گرو دیو شری شری روی شنکر
ڈاکٹر محمد منظور عالم ترغیب کا عظیم ستون ، قومی یکجہتی کے علمبردار تھے۔گرو دیو شری شری روی شنکر

 



نئی دہلی : آواز دی وائس 

ڈاکٹر محمد منظور عالم تحریک اور حوصلے کا ایک مضبوط ستون تھے۔ وہ ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے کام کرتے رہے۔

ان تاثرات کا اظہار آرٹ آف لیونگ انٹر نیشنل کے سربراہ گرو دیو شری شری روی شنکر نے کیا ہے جنہوں نے  ڈاکٹت منظور عالم کی موت پر سخت دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے ،یاد رہے کہ معروف دانشور مفکر اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے بانی ڈاکٹر محمد منظور عالم منگل کی صبح دہلی میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ڈاکٹر منظور طویل عرصہ سے بیمار تھے اور ذیابطیس کے علاوہ عمر سے متعلق کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال سے ملت کے لئے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔

گرو دیو شری شری روی شنکر نے ایک پیغام میں کہا کہ  مرحوم  کا حاشیے پر موجود لوگوں کو اوپر اٹھانا۔ ان کے آنسو پونچھنا۔ اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانا۔ یہی ان کی زندگی کا مشن تھا۔ یہی خدمت کی سب سے اعلیٰ شکل ہے۔ یہی حقیقی عبادت ہے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک صاحبِ بصیرت عالم، عالمی سطح کے مفکر اور رہنما تھے جو تعلیم، سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے عمر بھر بے مثال جدوجہد کرتے رہے۔انہوں نے ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے قاضی مجاہد الاسلام کے ساتھ ملی کونسل بھی قائم کی تھی جو اس وقت نمایاں مسلم تنظیموں میں سے ایک تھی۔ اس تنظیم کے توسط سے متعدد پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی-۔انہوں نے 1986میں سعودی عرب سے واپسی کے بعد مشہور تھنک ٹینک تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف ابجکیٹیو اسٹیڈیز (آئی او ایس) قائم کی۔ جس نے قلیل عرصے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح شہرت حاصل کی۔اس تنظیم نے تحقیقات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اوراس کی متعدد مطبوعات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے-

اپنے تعزیتی پیغام میں روی شنکر نے کہا کہ وہ ایک ایسے رول ماڈل تھے جو اختلافات سے بلند ہو کر امتیاز کا شکار افراد کے ساتھ کھڑے رہے۔ دعا ہے کہ ان کا کام لاکھوں لوگوں کے لیے مسلسل ترغیب کا ذریعہ بنتا رہے۔ میری دعا ہے ان کی روح کو سکون ملے اور لواحقین کو صبر ۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم کا عالمی فکری حلقوں سے گہرا تعلق تھا۔ وہ تصادم کے بجائے مکالمے پر یقین رکھتے تھے۔ ان کی تحریروں اور ملاقاتوں میں وسعت نظر اور احترام انسانیت نمایاں طور پر جھلکتا تھا۔ اسلامی معاشیات بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے مسائل پر ان کی فکر آج بھی عالمی سطح پر معتبر مانی جاتی ہے۔ ان کی کتاب فائنل ویک اپ کال ایک فکری صدا ہے جو کمزور آوازوں کو طاقت عطا کرتی ہے۔وہ ایک عظیم استاد اور شفیق مربی بھی تھے۔ ان کی صحبت میں آنے والے نوجوانوں کو علم کے ساتھ حوصلہ بھی ملا۔ ان کے شاگردوں کے لیے وہ صرف استاد نہیں تھے بلکہ ایک روشن مثال تھے۔ وہ عمل اور اخلاق دونوں میں یکساں طور پر بلند مقام رکھتے تھے۔

 تدفین  اور تعزیت

 ڈاکٹر منظورعالم کو سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں شاہین قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا اس موقع پر جماعت اسلامی کے سید سعادت اللہ حسینی، جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر ڈاکٹر افشار عالم، سابق سفارت کار اور کانگریسی لیڈر میم افضل، ڈاکٹرقاسم رسول الیاس، سماج وادی پارٹی کے لیڈر بدرالدین طیب، ملیشیا سفارت خانہ کے اعلی عہدیدار، سرکردہ شخصیات، صحافی اور دیگر شعبہائے حیات سے وابستہ افراد اس موقع پر موجود تھے

 ان کے انتقال پر ملک کی متعدد ملی، سماجی اور دینی تنظیموں اور سرکردہ شخصیات نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ جماعتِ اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اسے مسلم امت اور اسلامی علمی دنیا کے لیے ایک بڑا فکری خسارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم ایک دور اندیش ادارہ ساز، سنجیدہ عالم اور بے لوث خادمِ ملت تھے جن کی زندگی فکری دیانت، حکمت اور تحقیق سے عبارت تھی۔

انڈین مسلمس فار سول رائٹس کے چیئرمین اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد ادیب نے انہیں ایک ہمہ جہت مفکر اور عالمی سطح کا دانشور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوری زندگی قوم و ملت کے مسائل کے حل کے لیے وقف رہی۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی اور جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے بھی ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اور وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے بھی ڈاکٹر منظور عالم کے انتقال کو ملت کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا