ڈاکٹر منظور عالم کا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ۔ مقررین

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 11-05-2026
ڈاکٹر منظور عالم کا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ۔ مقررین
ڈاکٹر منظور عالم کا علمی ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ۔ مقررین

 



نئی دہلی :ڈاکٹر محمد منظور عالم مسلمانوں کے درمیان باہمی میل جول اور سماجی اتحاد کو اپنی جدوجہد کا محور بنائے رکھتے تھے”

یہ بات انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ملیشیا کے پروفیسرِ تعلیمات داؤد اے یحییٰ الہدابی نے کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی کے اسپیکر ہال میں ڈاکٹر منظور عالم کے یادگاری پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ اس پروگرام میں ملک و بیرونِ ملک سے آئی نمایاں شخصیات نے سابق سرپرستِ اعلیٰ انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) اور جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل ڈاکٹر منظور عالم کی علمی، فکری اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے شروع کیے گئے منصوبوں اور رہنما خطوط کو عملی شکل دینے پر زور دیا۔

پروفیسر داؤد الہدابی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے ایک تعلیمی قائد کی حیثیت سے گہرا نقش چھوڑا۔ ان کی فکر وسیع تھی، انہوں نے مسلمانوں کی پسماندگی پر توجہ دی اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کے ساتھ بین مذہبی مکالمہ کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے علومِ اسلامی کو سماجیات سے جوڑنے کی کوشش کی اور سماجی انصاف کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

مقاصد انسٹی ٹیوٹ گلوبل، امریکہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر جاسر عودہ نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی قومی و فکری سوچ محض ہندوستان تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سطح پر سنی گئی۔ انہوں نے اوقاف اور اسلامی معاشیات کے مطالعے کے لیے کوششیں کیں اور نئی نسل پر ان کے افکار کے واضح اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران قرآنِ کریم کے انگریزی ترجمے کے کام میں بھی تعاون کیا، جو انگریزی پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے لیے مفید ثابت ہوا۔ ڈاکٹر عودہ کے مطابق، ڈاکٹر منظور عالم اپنے پیچھے “ایک قیمتی ورثہ” چھوڑ گئے ہیں جو آگے بھی جاری رہے گا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کا علمی، فکری اور تحقیقی کام جدوجہدِ عمل کے لیے قوت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق کے بغیر اچھے کام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ ان کے مطابق ڈاکٹر منظور عالم نئے اور اختراعی منصوبے عملی شکل دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، اختلافِ رائے کے باوجود مختلف رجحانات کے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتے اور بہتر رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ انہوں نے عالمی روابط کو بروئے کار لا کر وسائل کو درست سمت میں استعمال کیا۔

ملی کونسل کے رکنِ تاسیسی مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم اختلافِ رائے کی قدر کرتے تھے اور تعاون دینے یا لینے میں کبھی تنگ دلی نہیں دکھاتے تھے۔ انہوں نے مختلف میدانوں میں کام کیا، مختلف صلاحیتوں کو یکجا کیا اور جو بھی ملت کے لیے مفید نظر آیا اسے ساتھ جوڑا۔ مولانا نعمانی کے مطابق فقہی امور میں بھی ان کا مزاج اعتدال پسند تھا اور وہ غور و فکر کے بعد ہی حتمی رائے قائم کرتے تھے۔

سابق وزیر خارجہ اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سلمان خورشید نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی فکر یہ تھی کہ ہندوستان کے مستقبل کو کس طرح محفوظ رکھا جائے۔ انہوں نے مختلف دانشوروں کو جمع کر کے بار بار اس بات پر توجہ دلائی کہ سماج—خصوصاً مسلمان—ملک کو درپیش اندیشوں اور خطرات سے نکلنے کے لیے کس طرح مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے سچر کمیٹی اور رَنگناتھ مشرا (کندو) کمیٹی جیسے اقدامات کے تناظر میں فکری سطح پر غیر معمولی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کے ادھورے کام ان کی رہنمائی کی روشنی میں مکمل کیے جانے چاہئیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر اخترالواسع نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے آئی او ایس جیسے تھنک ٹینک کے قیام کے ذریعے ایک عہد ساز کام انجام دیا اور مختلف الخیال حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر علمی و فکری سطح پر متعدد تاریخی پیش رفتیں ممکن بنائیں۔

کانگریسی رہنما اور سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر نے ڈاکٹر منظور عالم سے اپنے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف راستوں سے قوم و ملک کی خدمت انجام دے رہے تھے اور غیر جانب دارانہ انداز میں کام کرنے کے عادی تھے۔

معروف انگریزی صحافی اور عیسائی رہنما ڈاکٹر جان دیال نے کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم کی زندگی منفرد تھی، ان کے کام میں معیار غالب رہتا تھا اور وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بین الجماعتی روابط کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ تعلیم سے وابستہ ڈاکٹر عبداللہ اللحیدان نے آن لائن خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر منظور عالم نے سعودی عرب میں وزارتِ معاشیات سے ملازمت کا آغاز کیا اور اپنے کام میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق ڈاکٹر منظور عالم ادارہ جاتی تعاون پر یقین رکھتے تھے، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملیشیا کے متعدد پروجیکٹس سے جڑے رہے، اور سماجیات و معاشیات کو میڈیا سے مربوط کرنے کی سوچ رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے کئی کاموں کی گونج پاکستان، بنگلہ دیش، جدہ اور ملیشیا تک سنائی دیتی ہے۔

  ڈاکٹر محمد منظور عالم کو گرودیو روی شنکر کا خراجِ عقیدت      

نئی دہلی: معروف روحانی رہنما Sri Sri Ravi Shankar نے ڈاکٹر محمد منظور عالم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی زندگی علم حقیقت اور انسانیت کو قریب لانے کے مشن سے عبارت تھی۔

Art of Living International Center کے دفتر سے 26 اپریل 2026 کو جاری اپنے خصوصی پیغام میں گروودیو روی شنکر نے کہا کہ ڈاکٹر محمد منظور عالم کو یاد کرنا دراصل ایسے ذہن اور دل کو سلام پیش کرنا ہے جو سچائی اور انسانوں کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے وقف تھا

انہوں نے کہا کہ تعلیم کو تعصب ختم کرنے اور انسانیت کے مشترکہ رشتے کو مضبوط بنانے کی طاقت کے طور پر دیکھنے کا ڈاکٹر عالم کا نظریہ آج کے دور کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

گروودیو روی شنکر نے اپنے پیغام میں کہا کہ Institute of Objective Studies کے سرپرست اور بانی چیئرمین کی حیثیت سے ڈاکٹر محمد منظور عالم نے مکالمہ تعلیم اور خدمت کا ایک مضبوط پلیٹ فارم قائم کیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈاکٹر عالم کی زندگی سے وابستہ حکمت عاجزی اور انسان دوستی کی قدریں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کو رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔

 یادگاری پروگرام میں دیگر مقررین میں ملی کونسل کے کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری برائے علمی امور مولانا عتیق احمد بستوی ، آئی او ایس کے ذمہ داران اور مختلف ممالک سے آئے دانشور، صحافی اور سماجی شخصیات بھی شامل رہیں جنہوں نے ڈاکٹر منظور عالم کی خدمات کو سراہا اور ان کے اہلِ خانہ و متعلقین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔

پروگرام کی نظامت آل انڈیا ملی کونسل کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے کی۔ چار گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ اجتماع مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا