لکھنؤ: ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کو ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی جیسا مخلص، باوقار اور دوراندیش رہنما کم ہی نصیب ہوا۔ انہوں نے نہایت مشکل حالات میں ملت کی سیاسی شیرازہ بندی کا اہم فریضہ انجام دیا اور قومی و ملی سطح پر ایسی گراں قدر خدمات انجام دیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کیا
ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی پر معصوم مرادآبادی کی کتاب کی تقریبِ اجرا کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ قائد ملت ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی کی زندگی اور جدوجہد کو محض ایک سیاسی تحریک کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک ہمہ گیر سماجی انقلاب کی بنیاد تھی جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کو ان جیسا مخلص، باوقار اور دوراندیش رہنما نصیب نہیں ہوا جنہوں نے انتہائی نامساعد حالات میں ملت کو منظم کرنے اور اسے ایک واضح سمت دینے کا فریضہ انجام دیا۔
یہ خیالات انہوں نے ہوٹل عارف کاسل میں منعقدہ ایک باوقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ تقریب میں علمی، ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر معصوم مرادآبادی کی تصنیف، جو ڈاکٹر فریدی کی شخصیت اور خدمات پر مبنی ہے، کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
.webp)
.webp)
محمد ادیب نے اپنے خطاب میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر فریدی کی بے مثال خدمات کو ان کے دور میں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر فریدی نے ملت کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے اور اسے سیاسی طور پر مضبوط کرنے کی جو کوششیں کیں وہ درحقیقت ایک بڑے سماجی انقلاب کی تمہید تھیں۔
تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر رمیش دیکشت نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر فریدی نے نہ صرف مسلم سیاست کو نئی سمت عطا کی بلکہ اسے مؤثر اور بامقصد بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹر فریدی ہمیشہ سیکولر قوتوں کے ساتھ اتحاد کے حامی رہے اور فرقہ پرستی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں فرقہ وارانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے سیکولر طاقتوں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ممتاز دانشور ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی نے کہا کہ آزادی کے بعد کے نازک دور میں ڈاکٹر فریدی نے مسلمانوں کو فکری اور نفسیاتی طور پر مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک کامیاب معالج ہونے کے ساتھ ساتھ گہری سیاسی بصیرت کے حامل تھے اور انہوں نے ہر میدان میں اخلاص اور وقار کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ نئی نسل ان کی خدمات سے پوری طرح واقف نہیں ہے اور اس خلا کو پر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے محمد اویس سنبھلی نے کہا کہ یہ تصنیف ڈاکٹر فریدی کی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ مصنف کی علمی بصیرت اور تحقیقی محنت کا بھی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب نہ صرف ماضی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ حال کا تجزیہ اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کی بھی ترغیب دیتی ہے۔
تقریب کی نظامت ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شعیب نے انجام دی۔ انہوں نے ڈاکٹر فریدی کے ساتھ اپنے خاندانی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1965 میں جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو چیلنج کیا گیا تو ڈاکٹر فریدی نے بھرپور انداز میں اس کے حق میں آواز بلند کی اور تحریک کی قیادت کی۔
.webp)
.webp)
ایسوسی ایشن کی اعزازی سکریٹری شہلا حق نے کہا کہ ڈاکٹر فریدی کا کردار اس بات کی روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک فرد اپنی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایک بڑے مقصد کے لیے جدوجہد کر سکتا ہے۔ افتتاحی کلمات میں پروین طلحہ نے کہا کہ معصوم مرادآبادی کی یہ کاوش ڈاکٹر فریدی کے افکار کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
کتاب کے مرتب معصوم مرادآبادی نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مختلف ذرائع اور شخصیات سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اس کتاب کو مرتب کیا اور اس میں مستند حوالہ جات کو شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ تقریب میں مہمان اعزازی کے طور پر ڈاکٹر فریدی کی پوتی فرح عارف نے بھی خطاب کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دادا کی عظمت کے قصے سن کر ہمیشہ فخر محسوس کرتی ہیں۔
پروگرام کے کنوینر انور حبیب علوی نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شہر اور بیرون شہر سے تعلق رکھنے والی متعدد علمی، ادبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی اور تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔