نئی دہلی/بیجنگ: بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈو بھال 24 اگست کو چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ 25 اگست کو چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ بھارت-چین سرحدی تنازع پر خصوصی نمائندوں کی سطح کی 25ویں دور کی بات چیت میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب آئندہ ماہ نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس منعقد ہونے والا ہے اور چینی صدر شی جن پنگ کے بھارت دورے کے امکانات پر بھی بات چیت جاری ہے۔
ڈو بھال اور وانگ یی دونوں بھارت-چین سرحدی مسئلے کے خصوصی نمائندے ہیں۔ تقریباً 3,488 کلومیٹر طویل سرحد سے متعلق تنازع کئی دہائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ 2003 میں قائم کیا گیا خصوصی نمائندوں کا مذاکراتی نظام اب تک سرحدی تنازع کا حتمی حل تلاش نہیں کرسکا، تاہم کشیدگی کے ادوار میں رابطہ برقرار رکھنے اور اختلافات کو قابو میں رکھنے کا اہم ذریعہ رہا ہے۔
ممکنہ مودی-شی ملاقات سے پہلے اہم پیش رفت
ڈو بھال کا دورۂ چین ممکنہ مودی-شی ملاقات سے چند ہفتے قبل ہو رہا ہے۔ بھارت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اگر شی جن پنگ بھارت کا دورہ کرتے ہیں تو وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی دوطرفہ ملاقات کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
ایسے میں ڈو بھال اور وانگ یی کے درمیان ہونے والی بات چیت کو ممکنہ اعلیٰ سطحی ملاقات سے پہلے بھارت-چین تعلقات کی زمینی صورتحال کا جائزہ لینے اور سرحدی مسائل پر پیش رفت تلاش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
6 اگست کی WMCC میٹنگ کے بعد مذاکرات
خصوصی نمائندوں کی بات چیت سے قبل 6 اگست کو نئی دہلی میں بھارت اور چین کے درمیان سرحدی امور سے متعلق ورکنگ میکانزم فار کنسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن (WMCC) کی 36ویں میٹنگ ہوئی تھی۔
اس اجلاس میں دونوں ملکوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) کی صورتحال کا جائزہ لیا اور سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو دوطرفہ تعلقات. کی ترقی کے لیے بنیادی ضرورت قرار دیا۔ دونوں جانب نے زیر التوا مسائل کے حل اور LAC پر غلط فہمی یا غلط اندازے سے بچنے کے لیے موجودہ سفارتی و فوجی رابطہ نظام کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سرحدی تعین میں ’ارلی ہارویسٹ‘ کی امید
موجودہ مذاکرات میں سرحدی تعین یعنی Boundary Delimitation ایک اہم موضوع ہوسکتا ہے۔ گزشتہ سال نئی دہلی میں ہونے والی 24ویں خصوصی نمائندوں کی بات چیت میں دونوں ممالک نے 2005 کے معاہدے کو بنیاد بناتے ہوئے سرحدی تنازع کے حل کے لیے منصفانہ، مناسب اور دونوں جانب قابل قبول فریم ورک کی سمت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا تھا۔
حالیہ مذاکرات میں سرحدی تعین پر مسلسل توجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دونوں ممالک حتمی سرحدی حل سے قبل بعض علاقوں میں محدود نوعیت کے ابتدائی معاہدوں، یعنی ’ارلی ہارویسٹ‘ کے امکانات تلاش کر رہے ہیں۔
مشرقی لداخ کے بعد چار سال سے زائد کشیدگی
اپریل 2020 میں مشرقی لداخ میں فوجی کشیدگی کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات کو شدید دھچکا لگا تھا۔ سرحد پر فوجی تعیناتی اور طویل تعطل نے دونوں ملکوں کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو بھی متاثر کیا۔
مغربی سیکٹر کے علاوہ اروناچل پردیش سے متعلق اختلافات بھی برقرار ہیں۔ بھارت مسلسل کہتا رہا ہے کہ LAC پر امن اور استحکام دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی بنیادی شرط ہے۔
ناتھو لا اور لیپولیکھ سے سرحدی تجارت بحال
دونوں ممالک کے تعلقات میں بتدریج معمول کی واپسی کی ایک علامت سرحدی تجارت کی بحالی بھی ہے۔ اسی ماہ سکم کے ناتھو لا اور اتراکھنڈ کے لیپولیکھ دروں کے ذریعے سرحدی تجارت دوبارہ شروع کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک ایک طرف حساس سرحدی مسائل پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف محدود اقتصادی اور سرحد پار رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اروناچل پردیش کا مسئلہ بھی اہم
خصوصی نمائندوں کی بات چیت میں اروناچل پردیش سے متعلق اختلافات بھی اہم رہ سکتے ہیں۔ چین اروناچل پردیش پر دعویٰ کرتا ہے اور اسے ’جنوبی تبت‘ قرار دیتا ہے، جبکہ بھارت چینی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرچکا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔
اس لیے ڈو بھال-وانگ مذاکرات میں سرحدی انتظام اور کشیدگی کم کرنے کے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ سرحدی تعین اور مشرقی سیکٹر کے اختلافات بھی اہم موضوعات رہیں گے۔
بھارت کی ترجیح: LAC پر امن اور پھر تعلقات میں بہتری
بھارت کا موقف رہا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات میں حقیقی اور پائیدار بہتری کے لیے سرحد پر امن و استحکام ضروری ہے۔ اس لیے ڈو بھال کا بیجنگ دورہ محض سرحدی تنازع پر مذاکرات تک محدود نہیں ہوگا، بلکہ دونوں ملکوں کے وسیع تر تعلقات، فوجی و سفارتی رابطوں، سرحدی انتظام، اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
تاہم 25ویں دور کی بات چیت سے بھارت-چین سرحدی تنازع کے فوری اور جامع حل کی توقع قبل از وقت ہوگی۔ تنازع پیچیدہ ہے اور اس کے حتمی حل کے لیے طویل سیاسی اور سفارتی عمل درکار ہے۔ تاہم اگر دونوں ممالک سرحدی انتظام، کشیدگی میں کمی اور بعض علاقوں میں محدود سمجھوتوں کی سمت آگے بڑھتے ہیں تو یہ تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب اہم قدم ہوسکتا ہے۔
مودی-شی ملاقات کے لیے ماحول سازگار بنانے کی کوشش؟
ڈو بھال کا دورہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے چند ہی ہفتے بعد بھارت برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اگر شی جن پنگ نئی دہلی آتے ہیں تو مودی اور شی کے درمیان یہ 2024 کے کازان اور گزشتہ سال تیانجن میں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد ایک اور اہم اعلیٰ سطحی رابطہ ہوگا۔
ایسی صورتحال میں ڈو بھال-وانگ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان حساس معاملات پر بات چیت کی سمت طے کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ سرحدی کشیدگی میں کمی، مذاکراتی چینلز کو فعال رکھنے اور عملی مسائل پر پیش رفت سے ممکنہ مودی-شی ملاقات کے لیے مثبت ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
فی الحال اہم بات یہ ہے کہ بھارت اور چین نے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہے۔ 6 اگست کی WMCC میٹنگ کے بعد 25ویں دور کی خصوصی نمائندوں کی بات چیت اور ممکنہ اعلیٰ سطحی سیاسی رابطہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک سرحدی تنازع کو نظرانداز کیے بغیر دوطرفہ تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔