چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی. جوزف وجے مرکز کی جانب سے مجوزہ نئی حلقہ بندی کے عمل پر غور و خوض کے لیے ریاست کے ارکان پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کریں گے، تاہم دراوڑ منیترا کژگم (ڈی ایم کے) کے ارکان پارلیمنٹ اس اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ وزیر اعلیٰ وجے ہفتہ کو سہ پہر 3 بجے چنئی کے کَلائیوانر ارنگم میں اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اجلاس میں مرکز کی مجوزہ حلقہ بندی اور اس کے تمل ناڈو پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تمل ناڈو کے چیف سکریٹری ایم سائی کمار نے 6 اور 7 اگست کو ریاست کے ارکان پارلیمنٹ کو الگ الگ دعوت نامے بھیجے تھے۔ تاہم ڈی ایم کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ حکومت جب میکے داتو کے مسئلے پر کل جماعتی اجلاس طلب کرے گی، تب ہی وہ اس معاملے پر ہونے والی بات چیت میں شامل ہوگی۔ ڈی ایم کے کے ایک رکن پارلیمنٹ نے پی ٹی آئی-بھاشا سے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو براہ راست دعوت دینا ہی غلط قدم تھا۔
حکومت کو سب سے پہلے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو بات چیت کے لیے بلانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا، ’’ارکان پارلیمنٹ کا کام اپنی پارٹی کے موقف کی پیروی کرنا ہے۔ یہ اجلاس غیر ضروری ہے۔ ڈی ایم کے تمل ناڈو کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہمارے پارٹی صدر ایم کے اسٹالن نے سب سے پہلے حلقہ بندی کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور ریاست کے مفادات کی حفاظت کے لیے اس کے خلاف جدوجہد کی ہے۔‘
‘ دریں اثنا، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے ایک بیان میں کہا، ’’جو لوگ اپنی سیاست کو تمل ناڈو کے مفادات سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، وہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ تمل ناڈو کو پہلے اور سیاست کو بعد میں رکھتے ہیں، وہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بلائے گئے کل جماعتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔‘‘ ٹیگور نے مزید کہا، ’’یہ پارٹی سیاست کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ تمل ناڈو کے حقوق، مفادات اور مستقبل کا سوال ہے۔ تمل ناڈو کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور انہیں یاد رہے گا کہ ضرورت کے وقت ریاست کے ساتھ کون کھڑا تھا۔
‘‘ کانگریس تمل ناڈو کی حکمراں جماعت تملگا ویٹری کژگم (ٹی وی کے) کی اتحادی ہے۔ جمعہ کو اپوزیشن لیڈر ادھیانِدھی اسٹالن کی جانب سے میکے داتو کا مسئلہ اٹھائے جانے پر وزیر اعلیٰ وجے نے کہا تھا کہ کاویری آبی تنازع اور میکے داتو منصوبے پر پڑوسی ریاست کرناٹک کے ساتھ بات چیت کی تجویز انہوں نے خود پیش کی تھی، کیونکہ انہیں اس معاملے میں کسی مثبت نتیجے کی امید تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو لے کر چھوٹی اور سطحی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔