باغی ارکان کی نااہلی کا معاملہ: ٹی ایم سی کی سپریم کورٹ میں درخواست

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 24-08-2026
باغی ارکان کی نااہلی کا معاملہ: ٹی ایم سی کی سپریم کورٹ میں درخواست
باغی ارکان کی نااہلی کا معاملہ: ٹی ایم سی کی سپریم کورٹ میں درخواست

 



نئی دہلی: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈر ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے والے 20 باغی ٹی ایم سی ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر لوک سبھا اسپیکر اوم برلا جلد فیصلہ کریں۔ آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت دائر کی گئی رِٹ پٹیشن پر 25 اگست کو چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ سماعت کرے گی۔

درخواست میں باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف جاری نااہلی کی کارروائی پر فیصلہ لینے میں تاخیر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ تنازع ٹی ایم سی کی پارلیمانی پارٹی میں بغاوت کے بعد پیدا ہوا ہے۔ 20 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی سے الگ ہونے اور نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) کے ساتھ وابستہ ہونے کی کوشش کی ہے۔ باغی گروپ نے لوک سبھا میں ایک الگ گروپ کے طور پر تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹی ایم سی کا مؤقف ہے کہ یہ تمام ارکان پارٹی کے انتخابی نشان پر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں کسی دوسری سیاسی تنظیم سے وابستہ ہونے کا فیصلہ انسدادِ انحراف قانون کی دفعات کے تحت آتا ہے۔ ابھیشیک بنرجی نے اس سے قبل لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے سامنے الگ الگ نااہلی کی درخواستیں دائر کرکے ان پر جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپیکر نے مانسون اجلاس کے دوران 20 باغی ٹی ایم سی ارکان کے لیے لوک سبھا میں الگ نشستوں کا انتظام کیا تھا۔

ٹی ایم سی کی درخواست میں لوک سبھا اسپیکر اور سیکریٹری جنرل کو جواب دہندگان بنایا گیا ہے، جبکہ ان 20 ارکان کو بھی فریق بنایا گیا ہے جن کے خلاف نااہلی کی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں نامزد 20 ارکان یہ ہیں: کاکولی گھوش دستیدار، سودیپ بندیوپادھیائے، شتابدی رائے، پرسون بنرجی، رچنا بنرجی، جگدیش چندر برما بسونیا، پارتھ بھومک، اروپ چکرورتی، ادھیکاری دیپک دیو، سائیانی گھوش، باپی ہلدار، محمد ابو طاہر خان، کالی پد سرین کھیروال، آسیت کمار مال، جون مالیہ، متالی باگ، خلیل الرحمن، مالا رائے، شرمیلا سرکار اور پٹھان یوسف۔ اس سے قبل شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے۔ پارٹی نے لوک سبھا اسپیکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں اس کے ارکان پارلیمنٹ کے ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں "انضمام" کو تسلیم کیا گیا تھا۔