قومی اردو کونسل کے اسٹال پر ہندی صحافت میں اردو کے کردار پر گفتگو

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 18-01-2026
قومی اردو کونسل کے اسٹال پر ہندی صحافت میں اردو کے کردار پر گفتگو
قومی اردو کونسل کے اسٹال پر ہندی صحافت میں اردو کے کردار پر گفتگو

 



 

نئی دہلی۔ عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ہندی صحافت میں اردو کے اثرات کے موضوع پر ایک بامعنی مذاکرہ منعقد ہوا جس میں پرتاپ سوم ونشی پروفیسر رحمت اللہ اور مرزا عبدالباقی بیگ نے اظہار خیال کیا جبکہ نظامت ڈاکٹر جاوید عالم نے انجام دی۔ مذاکرے میں زبان صحافت اور تہذیب کے باہمی رشتے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

پرتاپ سوم ونشی نے کہا کہ کسی بھی زبان کو عوام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے آسان اور قابل فہم بنایا جائے۔ مشکل اور غیر ضروری الفاظ زبان کو محدود کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندی اخبارات میں اردو اور ہندی کے الفاظ مل کر استعمال ہوتے ہیں اور اسی امتزاج سے ہندوستانی زبان بنتی ہے جسے عام لوگ زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ہندی صحافت میں اردو کے الفاظ شامل نہ ہوں تو وہ عوامی سطح پر پوری طرح مقبول نہیں ہو سکتی کیونکہ خالص ہندی تحریر اکثر قارئین کے لیے مشکل بن جاتی ہے۔

پروفیسر رحمت اللہ نے اپنے صحافتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابتدا ہندی سے کی تھی مگر وقت کے ساتھ اردو کی طرف جھکاؤ بڑھتا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندی اور اردو کا رشتہ صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق تاریخ اور تہذیب سے بھی ہے کیونکہ دونوں اسی سرزمین میں پروان چڑھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہندی اخبارات میں اردو اور ہندوستانی زبان کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اردو کے شامل ہونے سے ہندی میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اردو اور ہندی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

مرزا عبدالباقی بیگ نے کہا کہ ہندی اور اردو کے بنیادی مصادر ایک جیسے ہیں اور فرق زیادہ تر رسم الخط اور نام کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بول چال اور اظہار میں ایک خاص مٹھاس پیدا کرتی ہے اسی لیے اسے میٹھی زبان کہا جاتا ہے۔ اگر اردو میں ہندی کے الفاظ شامل ہو جائیں تو اس کا حسن اور نکھر جاتا ہے۔ انہوں نے اردو شاعری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کم الفاظ میں گہری بات کہنے کی صلاحیت اردو کی پہچان ہے۔

مذاکرے کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہندی اور اردو کا تعلق لسانی ہی نہیں بلکہ ثقافتی اور تہذیبی بنیادوں پر بھی مضبوط ہے اور صحافت اس رشتے کو مزید مستحکم بنانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔