وزیر برائے فن۔ ثقافت و السنہ اور چیئرمین اردو اکادمی دہلی جناب کپل مشرا کی خصوصی دلچسپی۔ تعاون اور سرپرستی کے باعث اس سال بھی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
ورکشاپ کی اختتامی تقریب منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں منعقد ہوئی جہاں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی شریک ہوئے جن کا تعلق غیر اردو پس منظر سے تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب وہ اردو اکادمی کے کسی پروگرام میں شریک ہوئیں۔ ان کے مطابق انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کی صلاحیتوں پر مبنی اتنا معیاری اور خوبصورت پروگرام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

دیگر حاضرین نے بھی بچوں کی شاندار کارکردگی کو بے حد سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض 22 دن کی تربیت کے بعد بچوں نے جس اعتماد۔ مہارت اور فنی پختگی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اس کامیاب کاوش پر اردو اکادمی دہلی کو مبارک باد پیش کی۔
پروگرام کے دوسرے روز کی کارروائی محترمہ ریشماں فاروق کی دلکش نظامت میں مقررہ وقت پر شروع ہوئی۔ اردو اکادمی دہلی کے سینئر اراکین محمد ہارون اور عزیز حسین قدوسی نے مہمان فنکاروں کا گلدستے پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کے پہلے حصے میں سمر کیمپ کے دوران تیار کی گئی داستان گوئی پیش کی گئی۔ جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان کی رہنمائی میں 9 بچوں نے اپنی اپنی داستانیں پیش کر کے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔ افرا افتخار نے "چچا چھکن"۔ سمرین نے "نیکی کا فرشتہ"۔ محمد عمر نے "شیر اور خرگوش"۔ افرح حریم نے "ایمانداری"۔ زویا نے "بڑوں کی عزت"۔ یاسین نوشاد نے "کپڑوں کی دعوت"۔ انشا محبوب نے "دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے"۔ ایمن فاطمہ نے "محنتی کسان اور اس کے آلسی بیٹے" جبکہ عنایہ عظیم نے "میں بچ گئی ماں" کے عنوان سے اپنی داستانیں پیش کیں۔
دوسرا حصہ غزل گائیکی پر مشتمل تھا۔ جویریہ نے "بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے"۔ تسمیہ نے "اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں" جبکہ عامرہ نے "یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا" پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ ہارمونیم پر ان کے استاد جناب ذیشان ضمیر اور طبلے پر غلام صابر نے نہایت خوبصورت سنگت پیش کی۔

اس کے بعد اردو تھیٹر ورکشاپ میں تیار کیا گیا مزاحیہ ڈراما "گدھے کا گدھا" پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی جمن میاں اور ان کے محبوب گدھے "جنوں میاں" کے گرد گھومتی ہے جسے وہ تعلیم دلا کر انسان بنانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ مختلف دلچسپ مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں مزاح کے ساتھ ساتھ معاشرتی مسائل کی عکاسی بھی کی گئی اور کئی مثبت سماجی پیغامات پیش کیے گئے۔
تقریباً ایک گھنٹے پر محیط اس ڈرامے میں 28 ننھے اداکاروں نے اپنی جاندار اداکاری سے حاضرین کو خوب محظوظ کیا اور بھرپور داد سمیٹی۔دو روزہ اختتامی پروگرام نے ثابت کر دیا کہ اردو اکادمی دہلی کا سمر کیمپ اور تھیٹر ورکشاپ ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔ ان دو دنوں کے دوران 17 بچوں نے داستان گوئی۔ 5 بچوں نے غزل گائیکی جبکہ 71 بچوں نے مختلف ڈراموں میں حصہ لیا۔
اس موقع پر ڈراما اور ادب سے وابستہ متعدد شخصیات کے علاوہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی۔ ڈاکٹر شاہنواز فیاض۔ ڈاکٹر فرمان چودھری۔ حبیب سیفی۔ عرفان راہی۔ شاکر دہلوی۔ مختلف اسکولوں کے اساتذہ۔ طلبہ اور بچوں کے والدین بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔