دہلی اردو اکیڈمی کا 2020، 2021 اور 2022 کے انعام یافتگان کے لیے ایوارڈ پروگرام

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 27-11-2024
دہلی اردو اکیڈمی کا 2020، 2021 اور 2022 کے انعام یافتگان کے لیے ایوارڈ پروگرام
دہلی اردو اکیڈمی کا 2020، 2021 اور 2022 کے انعام یافتگان کے لیے ایوارڈ پروگرام

 



 آواز دی وائس : نئی دہلی 

دہلی اردو اکیڈمی کی جانب سے منگل کو دہلی سکریٹریٹ میں ایک پُروقار ایوارڈ تقسیم پروگرام منعقد ہوا،جس میں سال 2020، 2021 اور 2022 کے انعام یافتگان کتب کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب دہلی سیکریٹریٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔اس موقع پر ممتاز شخصیات موجود رہیں جبکہ محفل بھی مہمانوں سے کچھا کچھ بھری ہوئی تھی ۔اس بات اردو اکیڈمی نے ایک ساتھ تین سال کے انعامات کا اعلان کیا تھا جو کہ کورونا دور  میں ممکن نہیں ہوسکا تھا 

سال 2020 کے انعام یافتگان میں پروفیسر توقیر احمد خان کی کتاب "جدید اردو شاعری"، جناب معصوم مرادآبادی کی "اردو صحافت: آغاز سے 1857 تک کا ایک مختصر جائزہ"، ڈاکٹر ذاکر فیضی کی "نیا حمام"، ڈاکٹر عبد الباری قاسمی کی "تفهیم و تعبیر"، ڈاکٹر راشدہ رحمٰن کی "اردو کی ابتدائی دور کی ناول نگار خواتین" اور محترمہ مینو بخشی کی "ابر کرم" جیسے اہم علمی اور ادبی کارنامے شامل تھے۔

سال 2021 کے انعام یافتگان میں ڈاکٹر زاہد احسن کی "اردو شاعری میں حب الوطنی (1947 کے بعد)"، ڈاکٹر محمد نعمان خاں کی "فلسفہ تعلیم" پروفیسر شہزاد انجم کی "اردو کے غیر مسلم شعرا اور ادبا"، جناب انتظار نعیم کی "اجالوں میں سفر"، جناب سہیل انجم کی "نقش بر سنگ (کچھ خراج تحسین، کچھ عقیدت )، ڈاکٹر پرویز شہریار کی "راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری"، ڈاکٹر سید فیضان حسن کی "ادب و ثقافت"، ڈاکٹر ابراہیم افسر کی "رشید حسن خاں کی ادبی جہات"، ڈاکٹر نوشاد منظر کی "غالب ہندی ادیبوں کے درمیان" اور ڈاکٹر تسنیم بانو کی "تحریک نسواں اور خواتین افسانہ نگار" جیسی اہم تصانیف شامل تھیں

سال 2022 میں پروفیسر شریف حسین قاسمی کی "حاصل تحقیق"، ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم کی "ہندوستان میں سلسلہ چشتیہ: آغاز و ارتقا"، پروفیسر کوثر مظہری کی "جمیل مظہری (فردنامہ)"، جناب طالب رامپوری کی "نئی امید کے پھول" سیدہ نفیس بانو شمع کی "وقت مجھے لکھ رہا ہے"،  اشرف علی بستوی کی "کارپوریٹ میڈیا : ایک جائزہ " ڈاکٹر امیر حمزہ کی "رباعی تحقیق"، ڈاکٹر شاہنواز ہاشمی کی "اردو صحافت (حقائق ، روایت اور امکانات)" اور جناب خورشید اکرم کی "رات کی بات" جیسی تصانیف کو اعزاز سے نوازا گیا۔

تقریب کے آغاز میں محترمہ ریشماں فاروقی نے مہمانانِ خصوصی کو اسٹیج پر مدعو کیا اور اردو اکادمی کے متحرک سیکریٹری جناب احسن عابد نے استقبالیہ کلمات پیش کیے، جنہوں نے تقریب کے اغراض و مقاصد اور اردو ادب کی ترویج میں اکادمی کے کردار پر روشنی ڈالی۔ ہال مہمانوں، ادیبوں اور شائقینِ ادب سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا، اور اسٹیج پر معزز مہمانوں کی موجودگی نے تقریب کی رونق کو دوچند کر دیا۔

پروگرام کے دوران انعام یافتگان کو اسٹیج پر بلا کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ انہیں سندِ توصیف، اکادمی کا مومنٹو اور انعامی رقم کے چیکس پیش کیے گئے۔ انعام یافتگان میں شامل مصنفین نے اپنی تحریروں کے ذریعے اردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی کتابوں نے اردو کے قارئین کو نئی سوچ اور خیالات سے روشناس کیا ہے

 دہلی کے وزیر خوراک و رسد عمران حسین نے صحافی اشرف علی بستوی کو ان کی کتاب "کارپوریٹ میڈیا - ایک جائزہ" کے لیے ایوارڈ سے نوازا یہ کتاب قومی اور بین الاقوامی میڈیا کے پچھلے ایک دہائی کے غیر منصفانہ رویے کی عکاس ہے اور ملت اسلامیہ ہند کو میڈیا کی اہمیت و افادیت کا ادراک کرانے کی ایک مؤثر کوشش ہے۔ کتاب میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ میڈیا کی زیادتیوں کے خلاف معاشرتی رویہ، خصوصاً مسلم معاشرے کا، کیسا رہا ہے۔ دینی حلقوں میں میڈیا کے پیشے کو مکمل اعتبار نہ حاصل ہونے اور عالمی سطح پر کارپوریٹ میڈیا کی چالبازیوں کو بے نقاب کرنے کی یہ ایک اہم دستاویز ہے۔مصنف نے اس کتاب میں انسانی معاشرے پر کارپوریٹ میڈیا کے مضر اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے میڈیا کی طاقت کو جم موریسن کے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: جو میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے، ذہنوں پر اسی کا راج ہوتا ہے۔اشرف علی بستوی دہلی میں مقیم ایک کہنہ مشق صحافی، قلم کار، تجزیہ نگار، اور مترجم ہیں۔ وہ ملک و بیرون ملک کے معروف اخبارات و رسائل جیسے راشٹریہ سہارا، دینک جاگرن، سہ روزہ دعوت، اردو ٹائمز نیویارک، دور درشن، اور آل انڈیا ریڈیو میں اہم ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ اشرف بستوی فی الحال "ایشیا ٹائمز" کے چیف ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جسے وہ پچھلےدس سال سے کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں