نئی دہلی : دہلی حکومت کے وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ اور اردو اکادمی دہلی کے چیئرمین کپل مشرا نے ماہرین کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے سال 2023 اور 2024 کے لیے موصول ہونے والی 29 کتابوں میں سے 23 بہترین کتابوں کو انعامات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ سال 2024 میں موصول ہونے والے مسودات میں سے منتخب مسودات کی اشاعت کے لیے مالی تعاون کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
اردو اکادمی دہلی کی جانب سے سال 2023 کے لیے پہلے انعام کی رقم 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس انعام کے لیے ’اقبال شاعر شعلہ نوا‘ از ڈاکٹر شمیم احمد اور ’کانسے کا سورج‘ از نسیم نقوی کو منتخب کیا گیا ہے۔
دوسرے انعام کی رقم 10 ہزار روپے ہے اور اس کے لیے ’مولانا ابوالکلام آزاد: مدبر، مفکر اور معلم‘ از ڈاکٹر واثق الخیر کا انتخاب کیا گیا ہے۔
سال 2024 کے لیے پہلے انعام کی رقم 15 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
اس زمرے میں ’مناظر رقص کرتے ہیں‘ از ناصر عزیز، ’خطاطی کی مختصر تاریخ‘ از محمد ذکیرالدین ذکی،
اقبال جہاں دوست‘ از پروفیسر عبدالحق
اردو صحافت اور ادب: اداریے اور شذرات‘ از حسن ضیا
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ان کے بانیان کا سیکولر کردار‘ از خواجہ عبدالمنتقم
اس کے ساتھ ’آشفتہ سری‘ از رضوان لطیف خان، ’اردو شاعری کی تنقید‘ از پروفیسر ابوبکر عباد، ’اردو تنقید: نقوش و نشانات‘ از عبدالباری قاسمی اور ’اردو صحافت کے روشن نقوش‘ از ڈاکٹر منور حسن کمال شامل ہیں۔
دوسرے انعام کے لیے 10 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
اس زمرے میں ’امورِ طبیعیہ پریکٹیکل‘ از پروفیسر اشہر قدیر، ’سنگِ میل‘ از ارشد ندیم، ’مولانا سید ابوالحسن علی ندوی: شخصیت اور تحریک کا علمی و تاریخی مطالعہ‘ از شاہ عمران حسن، ’پیش نامے‘ از ڈاکٹر واحد نظیر اور ’زندان‘ از پروین شغف کو منتخب کیا گیا ہے۔
تیسرے انعام کی رقم 5 ہزار روپے ہے۔
اس انعام کے لیے ’آسان پہیلیاں‘ از حبیب سیفی، ’خدا کے گھر کا بٹوارہ‘ از تاج الدین محمد، ’اڑتی ہے میری خاک‘ از جاوید احمد صدیقی، ’بکھرے ہوئے پھول‘ از عبدالسلام صدیقی، ’کہکشاں‘ از نورالعین قیصر قاسمی اور ’قلم کی رعنائیاں‘ از حامد علی اختر کا انتخاب کیا گیا ہے۔اکادمی کے مطابق تمام انعام یافتگان کو جلد منعقد ہونے والی تقریب تقسیمِ انعامات میں نقد انعامات کے علاوہ اسناد اور اکادمی کا نشان بھی پیش کیا جائے گا۔
اردو اکادمی دہلی میں موصول ہونے والے 38 مسودات میں سے 16 مسودات کی اشاعت کے لیے مالی تعاون دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان مسودات میں ’اظہارِ خیال‘ از پروفیسر غلام یحییٰ انجم، ’سفر کردم‘ از مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی، ’ادب، صحافت کی چند معروف شخصیات‘ از سہیل انجم، ’مزاحِ فکر تونسوی‘ از پرویز اختر خاں، ’اظہارِ خیال‘ از سلمان فیصل، ’میرا مذہب محبت‘ از طالب رامپوری، ’پوٹلی خیالوں کی‘ از حشمت بھاردواج، ’خوشبوئے وفا‘ از محمد رفیق وفا جھالوی، ’افکارِ امتیاز‘ از ڈاکٹر احمد امتیاز، ’مصنوعی ذہانت کا مستقبل: امکانات اور چیلنجز‘ از ڈاکٹر شہلا نواب، ’رتن سنگھ: فکشن نگار، شاعر، مترجم‘ از ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی، ’1857 کی جنگِ آزادی اور اردو صحافت‘ از ڈاکٹر مخمور صدری، ’عاشقِ ادب‘ از محمد رضوان احمد، ’محبت فاتحِ عالم‘ از ڈاکٹر پرویز شہریار، ’تعلیقاتِ عودِ ہندی‘ از محمد شاداب شمیم اور ’سنین و آثارِ مصنفین‘ از خان محمد رضوان شامل ہیں۔
اس موقع پر محکمۂ فن و ثقافت و السنہ حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے حکومتِ دہلی بالخصوص وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ اور اردو اکادمی دہلی کے چیئرمین کپل مشرا کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لیے حکومتِ دہلی کی جانب سے اردو اکادمی کو حاصل سرپرستی اور تعاون کو سراہا۔
لیکھ راج نے ان تمام مصنفین کو مبارکباد پیش کی جن کی کتابیں انعامات کے لیے منتخب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن مصنفین کے مسودات مالی تعاون کے لیے منظور کیے گئے ہیں انہیں اکادمی کی جانب سے خطوط کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔ مصنفین سے کہا جائے گا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی کتابیں شائع کراکے اکادمی کے دفتر میں پیش کریں تاکہ منظور شدہ مالی تعاون فراہم کرنے کی کارروائی مکمل کی جاسکے۔