نئی دہلی: کڑکڑڈوما عدالت نے 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔ دونوں ملزمان نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج مقدمے میں باقاعدہ ضمانت کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 59/2020 سے متعلق ہے، جس میں فروری 2020 کے دوران شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل کا الزام ہے کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کی آڑ میں منصوبہ بند طریقے سے فرقہ وارانہ تشدد بھڑکانے کی سازش رچی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر یو اے پی اے اور تعزیراتِ ہند (آئی پی سی) کی مختلف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
عمر خالد اور شرجیل امام اس مقدمے میں نامزد ملزمان ہیں۔ انہوں نے عدالت سے باقاعدہ ضمانت کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے فی الحال انہیں کوئی راحت دینے سے انکار کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ملزمان کے لیے قانونی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ واضح رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں 50 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ اس دوران بڑی تعداد میں مکانات، دکانیں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ یہ مقدمہ طویل عرصے سے قانونی اور سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔