دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 22-07-2026
دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند
دہلی کے 16 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند

 



نئی دہلی: دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 16 میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، اہم مقامات پر انٹرچینج کی سہولت بدستور جاری رہے گی۔ ڈی ایم آر سی کے مطابق، اگلے حکم تک بند کیے گئے اسٹیشنوں میں لوک کلیان مارگ، راجیو چوک، پٹیل چوک، رام کرشن آشرم مارگ، بارہ کھمبہ روڈ، سپریم کورٹ، سیوا تیرتھ، جن پتھ، منڈی ہاؤس، سینٹرل سیکریٹریٹ، آئی ٹی او، دہلی گیٹ، اندرپرستھ، خان مارکیٹ، جور باغ اور شیواجی اسٹیڈیم شامل ہیں۔

البتہ راجیو چوک، منڈی ہاؤس اور سینٹرل سیکریٹریٹ پر انٹرچینج کی سہولت دستیاب رہے گی۔ ڈی ایم آر سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ سکیورٹی پروٹوکول کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ تمام میٹرو اسٹیشن جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے قریب واقع ہیں، جہاں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے تیسرے دن سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل اتوار کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وسطی دہلی کے پانچ میٹرو اسٹیشن—جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ—عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے ’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ کے اعلان کے بعد دہلی پولیس نے پارلیمنٹ اور اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ ریپڈ ایکشن فورس کے اضافی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے باوجود سی جے پی نے جنتر منتر پر اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

دہلی پولیس کے مطابق، تنظیم نے پارلیمنٹ مارچ کے لیے نہ تو اجازت طلب کی تھی اور نہ ہی اسے اجازت دی گئی تھی۔ پیر کو دہلی پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ضلع میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے تحت پابندی کے احکامات نافذ ہیں، جو سابقہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 144 کے مساوی ہیں۔ ایڈوائزری کے مطابق، جنتر منتر کے مجاز احتجاجی مقام کے علاوہ کسی بھی جگہ احتجاج، جلوس، مظاہرہ یا پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع کی اجازت نہیں ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل سماجی کارکن سونم وانگچک نے کہا تھا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام میں حالیہ ناکامیوں، خصوصاً نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک معاملے، کی ذمہ داری قبول کرے یا ارکانِ پارلیمنٹ یقین دہانی کرائیں کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اس معاملے پر جوابدہی طے کی جائے گی تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔

واضح رہے کہ نیٹ-یو جی 2026 کے مبینہ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج جون میں جنتر منتر سے شروع ہوا تھا، جس میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں سونم وانگچک بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی، جس کے بعد یہ تحریک قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی۔