نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کی بیٹی ہیمایانی پوری کو امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے جوڑنے والے سوشل میڈیا مواد کو 24 گھنٹوں کے اندر ہٹانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ جسٹس منی پوشکرنا نے اس کیس کی سماعت کے دوران نہ صرف متنازع مواد کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی بلکہ صارفین کو آئندہ اس نوعیت کا کوئی بھی مواد شائع یا شیئر کرنے سے بھی روک دیا۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر صارفین مقررہ وقت میں اپنی پوسٹس حذف نہیں کرتے تو متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خود اس مواد کو ہٹا دیں گے یا اس تک رسائی بند کر دیں گے۔ یہ حکم ہیمایانی پوری کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا گیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ایک منظم اور بدنیتی پر مبنی آن لائن مہم کے ذریعے ایپسٹین کے جرائم سے جوڑا جا رہا ہے۔
عدالت نے ابتدائی طور پر اس بات کو تسلیم کیا کہ درخواست گزار کے حق میں بظاہر مضبوط کیس موجود ہے اور اگر فوری ریلیف نہ دیا گیا تو انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت اگست میں مقرر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکل ایک عالمی شہرت یافتہ فنانس پروفیشنل ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔
ہیمایانی پوری نے اپنے دعوے میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور عدالت سے درخواست کی ہے کہ مختلف پلیٹ فارمز کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس طرح کا ہتک آمیز مواد مزید پھیلانے سے باز رہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 22 فروری 2026 کے بعد سے ایکس، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک، لنکڈ اِن اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور گمراہ کن معلومات پر مبنی پوسٹس، ویڈیوز اور مضامین شائع کیے گئے۔
ہیمایانی پوری کے مطابق انہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ ایک مرکزی وزیر کی بیٹی ہیں، جبکہ ان کے اور ایپسٹین کے درمیان کسی بھی قسم کے کاروباری، مالی یا ذاتی تعلق کا الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ ایپسٹین کیس سے متعلق دستاویزات، جنہیں عام طور پر "ایپسٹین فائلز" کہا جاتا ہے، ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں اور ان میں سفر کے ریکارڈز، ای میلز اور دیگر شواہد شامل ہیں۔ 2019 میں حراست کے دوران ایپسٹین کی موت کے بعد سے یہ معاملہ عالمی سطح پر مسلسل زیرِ بحث رہا ہے۔