او بی سی کمیشن کو منتقل کرنے کا فیصلہ درست : سپریم کورٹ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 09-02-2026
او بی سی کمیشن کو منتقل کرنے کا فیصلہ درست : سپریم کورٹ
او بی سی کمیشن کو منتقل کرنے کا فیصلہ درست : سپریم کورٹ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کے روز ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے اس عبوری حکم کو منسوخ کر دیا، جس کے تحت ریاستی حکومت کے او بی سی کمیشن کے دفتر کو شملہ سے دھرم شالہ منتقل کرنے کے فیصلے پر روک لگا دی گئی تھی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس نوعیت کے معاملات پالیسی فیصلوں سے متعلق ہوتے ہیں اور عموماً عدالتی دائرۂ اختیار میں نہیں آتے۔

تاہم بنچ نے ہماچل پردیش ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ وہ کانگریس کی قیادت والی ریاستی حکومت کے جواب پر غور کرنے کے بعد ریاستی او بی سی کمیشن کے دفتر کی منتقلی کے خلاف دائر عرضی پر فیصلہ کرے۔ بنچ نے ریاستی حکومت کو چار ہفتوں کے اندر ہائی کورٹ میں اپنا جواب داخل کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے مشاہدات بنیادی طور پر عبوری حکم سے متعلق ہیں اور وہ معاملے کے حتمی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوں گے۔

ابتدائی طور پر بنچ نے کہا کہ عموماً دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کی آبادی کانگڑا اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہتی ہے، اور ایسے فیصلے عام طور پر ’’عوامی مفاد‘‘ میں کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر عدالت کے دائرے میں نہیں آتے۔ اس سے قبل ہماچل پردیش ہائی کورٹ نے 9 جنوری کو ریاستی حکومت کے اس فیصلے پر روک لگا دی تھی، جس کے تحت ہماچل پردیش اسٹیٹ بیک ورڈ کلاسز کمیشن کے دفتر کو شملہ سے دھرم شالہ منتقل کیا جانا تھا۔

ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں گہری عدالتی جانچ ضروری ہے۔ چیف جسٹس جی ایس سندھاوالیہ اور جسٹس انکت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے رام لال شرما کی جانب سے دائر کی گئی ایک مفادِ عامہ کی عرضی کی سماعت کے دوران یہ عبوری حکم سنایا تھا، جس میں ریاستی حکومت کے 7 جنوری کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔