گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دیا جانا چاہیے: مولانا ارشد مدنی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 21-05-2026
گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دیا جانا چاہیے:  مولانا ارشد مدنی
گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دیا جانا چاہیے: مولانا ارشد مدنی

 



نئی دہلی : آواز دی وائس 

گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ ملک کی اکثریتی آبادی گائے کو نہ صرف مقدس مانتی ہے بلکہ اسے ماں کا درجہ بھی دیتی ہے۔ ایسے میں یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کون سی سیاسی مجبوری ہے جس کی وجہ سے حکومت گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دینے سے گریز کر رہی ہے۔ گائے کے نام پر ہونے والی ماب لنچنگ۔ بے گناہ انسانوں کا قتل۔ نفرت کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر گائے کو ’’قومی جانور‘‘ قرار دے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے تاکہ نہ کسی انسان کی جان جائے اور نہ مذہب کے نام پر سیاست ہو۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ ریاستوں میں کھلے عام گائے کا گوشت فروخت ہوتا ہے لیکن وہاں اس کے خلاف نہ کوئی احتجاج ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ماب لنچنگ دیکھنے کو ملتی ہے۔ جبکہ جہاں مسلمانوں کی آبادی ہے وہاں گائے کے نام پر خون بہایا جاتا ہے۔ یہ عقیدت نہیں بلکہ دوہرا معیار اور سیاسی کھیل ہے۔ یکساں سول کوڈ کے تعلق سے یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ جب ملک ایک ہے تو قانون بھی ایک ہونا چاہیے۔ لیکن ملک میں جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق قوانین تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہیں۔ ملک میں کئی ایسی ریاستیں ہیں جہاں کھلے عام گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے اور وہاں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ایک مرکزی وزیر اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ بیف کھاتے ہیں۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جن ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں وہاں بھی یہ سب ہو رہا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ملک بھر میں گائے کے نام پر بھیڑ تشدد کر کے انسانوں کی جان لے لیتے ہیں وہ بھی اس مسئلے پر مکمل خاموش ہیں۔

ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ گائے کو ’’قومی جانور‘‘ کا درجہ دے کر اس تنازع کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اس کے لیے جو بھی قانون بنایا جائے اسے ملک کی تمام ریاستوں میں بغیر کسی امتیاز کے یکساں طور پر نافذ کیا جائے۔ اس میں کسی قسم کا بھید بھاؤ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے۔