مذہبی آزادی کے نام پر مہاراشٹر کا قانون خود مذہبی آزادی کا دشمن

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 22-08-2026
مذہبی آزادی کے نام پر مہاراشٹر کا قانون خود مذہبی آزادی کا دشمن
مذہبی آزادی کے نام پر مہاراشٹر کا قانون خود مذہبی آزادی کا دشمن

 



 نئی دہلی، 21 اگست: جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نفاذ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی متعدد دفعات شہریوں کے ضمیر کی آزادی، مذہبی آزادی، رازداری اور شخصی خودمختاری کے آئینی تحفظات کے منافی ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ہندوستان کی طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی گوناگونی میں مضمر ہے۔ آئین میں دی گئی مذہبی آزادی ہر شہری کے لیے ہے۔ اگر کوئی شہری اپنے مذہب کا آزادانہ انتخاب نہیں کرسکتا تو آئین کا آرٹیکل 25 بے معنی ہوجاتا ہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ مہاراشٹر نے اس قانون کے ذریعے اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش کے ماڈل کو اپنایا ہے، جنہیں جمعیت علماء ہند پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرچکی ہے۔ ہمارا بنیادی موقف یہ ہے کہ ’Allurement‘ (لالچ/ترغیب) اور ’Fraudulent‘ (دھوکہ دہی پر مبنی) جیسی مبہم اصطلاحات کو قانون کا حصہ بنانے کے نتیجے میں مذہب کی پُرامن تبلیغ کو بھی جرم کے دائرے میں لایا جارہا ہے۔ اسی طرح، توحید پر ایمان رکھنے والوں کے لیے آخرت میں اس کے اجر اور نجات کی تعلیم کو بھی ’لالچ‘ کے زمرے میں شامل کیا جارہا ہے، جو ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 25 میں دیے گئے مذہب کی تبلیغ کے حق کو براہِ راست غیر مؤثر بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایسے قوانین کی آڑ میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جیلوں میں بند کیا جارہا ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ ریاست کو یہ آئینی اختیار حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ کسی شہری کے نجی ضمیر اور مذہبی انتخاب کی نگہبان بن جائے اور اس کے لیے جواب دہی کا تعین کرے۔

گزشتہ سال سپریم کورٹ نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے سے قبل لازمی اعلان، پولیس کی جانچ اور ذاتی معلومات کو عام کرنے جیسی شرائط کسی شخص کی شخصی آزادی پر غیر ضروری اور غیر معمولی بوجھ ڈالتی ہیں۔

مولانا مدنی نے کہا کہ مختلف ریاستوں میں مذہب مخالف قوانین کے تجربات کو دیکھتے ہوئے عدالتوں اور جمہوری اداروں کو صرف ان قوانین میں بیان کیے گئے مقاصد پر ہی نہیں بلکہ ان کے قانونی ڈھانچے، ان کے پس پردہ موجود اکثریتی سوچ سے متاثرہ مقاصد اور ان کے غلط استعمال کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیت علماء ہند کسی بھی ایسی حقیقی کوشش کی مخالف نہیں ہے جس کا مقصد جبری، دھوکہ دہی یا زبردستی مذہب تبدیلی کو روکنا ہو۔ لیکن مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر بنایا گیا کوئی قانون خود اسی آزادی کو محدود کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا اور نہ ہی اسے کسی مخصوص برادری کے خلاف سزا دینے کے ہتھیار کے طور  استعمال ہو