عدالت کا گوگل اور میٹا کو اہم حکم

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 09-04-2026
عدالت کا گوگل اور میٹا کو اہم حکم
عدالت کا گوگل اور میٹا کو اہم حکم

 



نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے گوگل ایل ایل سی اور متعدد میڈیا اداروں کو اس مبینہ ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کا حکم دیا ہے، جو تاجر منوج کیسری چند سندیسرا اور ان کے خاندان کو اسٹرلنگ بایوٹیک بینک فراڈ معاملے سے جوڑتا ہے۔ سینئر جج و کرایہ کنٹرولر رچا شرما ایک دیوانی مقدمے کی سماعت کر رہی تھیں، جس میں ہرجانے اور آن لائن مواد ہٹانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

مدعی نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مواد “جھوٹا، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز” ہے۔ آن لائن مواد میں خبریں اور ویڈیوز شامل تھے۔ عدالت نے 4 اپریل کے اپنے حکم میں کہا کہ مدعی عبوری یکطرفہ راحت کا حقدار ہے، جس کے تحت مدعا علیہ نمبر 1 سے 3 (گوگل ایل ایل سی، میٹا پلیٹ فارمز اور جان ڈو)، ان کے نمائندوں، ملازمین یا ان کی جانب سے کام کرنے والے کسی بھی شخص کو اسٹرلنگ بایوٹیک لمیٹڈ اور بینک فراڈ کیس میں مدعی اور اس کے خاندان سے متعلق مواد شائع کرنے، دوبارہ شائع کرنے یا نشر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم پر 36 گھنٹوں کے اندر فوری عملدرآمد کرنے کی ہدایت بھی دی۔

مدعی نے یکطرفہ عبوری حکم امتناعی کی درخواست کی تھی، جس کے تحت مدعا علیہان کو اسٹرلنگ بایوٹیک معاملے کے سلسلے میں مدعی اور اس کے خاندان سے متعلق “کسی بھی مزید مواد کو شائع کرنے، دوبارہ شائع کرنے یا نشر کرنے” سے روکنے اور سرچ انجنز و آن لائن پلیٹ فارمز سے موجودہ لنکس ہٹانے کی مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کے سمن اور حکم امتناعی کی درخواست کی اطلاع مدعا علیہان کو دی جائے۔ مقدمے کو 20 اپریل کے لیے درج کرتے ہوئے، عدالت نے تمام فریقین کو ہدایت دی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ضروری اقدامات کریں۔