رانچی: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے جمعہ کو راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد سے متعلق چارہ گھوٹالہ کے معاملات میں دستاویزات حاصل کرنے کے لیے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو آٹھ ہفتے کی مہلت دی۔
لالو پرساد کے وکیل دیورشی منڈل نے بتایا کہ چارہ گھوٹالہ سے متعلق تمام معاملات سماعت کے لیے عدالت کے سامنے فہرست میں شامل تھے۔ منڈل نے کہا، ’’سماعت کے دوران سی بی آئی نے عدالت سے مزید وقت مانگا اور بتایا کہ اس کے پاس ضروری دستاویزات دستیاب نہیں ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو ہدایت دی کہ وہ آٹھ ہفتوں کے اندر رجسٹری سے تمام دستاویزات حاصل کرے۔
اس کے بعد اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سی بی آئی نے لالو پرساد کی سزا میں اضافہ کرنے اور ان کی ضمانت منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ منڈل کے مطابق، لالو پرساد سے متعلق چارہ گھوٹالہ کے پانچ معاملات ہیں۔ ان میں دو معاملات چائباسا خزانے سے، جبکہ ایک ایک معاملہ دمکا، دیوگھر اور ڈورانڈا خزانے سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے 14 جولائی کو چارہ گھوٹالہ کے ایک معاملے میں آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کو ضمانت دینے کے جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عدالت سی بی آئی کی اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی، جس میں ہائی کورٹ کے جولائی 2019 کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ بنچ نے کہا تھا، ’’ہم متنازع حکم میں مداخلت کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔‘‘ سی بی آئی نے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت نے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا پر روک لگا کر اور چارہ گھوٹالہ کے ایک معاملے میں آر جے ڈی سربراہ کو ضمانت دے کر ’’غلطی‘‘ کی ہے۔
سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے لالو پرساد کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ساڑھے تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے دیوگھر خزانے سے مبینہ طور پر 89.27 لاکھ روپے کی فرضی نکاسی کے معاملے میں لالو پرساد کی سزا پر روک لگا کر انہیں ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ وہ اپنی سزا کی نصف مدت پہلے ہی پوری کر چکے تھے۔