نئی تحقیق کو عصری تقاضوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 07-09-2026
نئی تحقیق کو عصری تقاضوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے
نئی تحقیق کو عصری تقاضوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے

 



 نئی دہلی: تحقیق محض ماضی کے علمی سرمائے کو کھنگالنے کا نام نہیں بلکہ اسے اپنے عہد کے سوالات اور مسائل سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ آج تحقیق کے میدان میں نئے چیلنجز موجود ہیں اور آنے والی نسل ہی یہ طے کرے گی کہ ان چیلنجز کا سامنا کس فکری بصیرت اور علمی حکمتِ عملی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی نسل کے ریسرچ اسکالرز نئے موضوعات کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں اور ان کے مطالعاتی زاویے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ یہ خیالات ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹر خالد مبشر اور ڈاکٹر مہتاب جہاں نے غالب انسٹی ٹیوٹ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار کے آخری روز اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیش کیے۔

تین روز تک جاری رہنے والے اس علمی و تحقیقی پروگرام کا اختتام اتوار کو ہوا۔ آخری روز چار اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں ملک کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ریسرچ اسکالرز نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ ان مقالات میں اردو ادب، تنقید، شاعری، افسانہ، ادبی صحافت، لسانیات، تاریخ اور عصری سماجی مسائل جیسے مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔

آخری روز کے پہلے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر علی احمد ادریسی نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ایسے بین الاقوامی ریسرچ اسکالر سمینار کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کرنے والے نوجوان اسکالرز ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور یہ جاننے کا موقع ملتا ہے کہ مختلف جامعات میں کن موضوعات پر تحقیقی کام جاری ہے۔

اس اجلاس میں سید مظہر علی عباس نے ’’مرآۃ الاسرار اور شیخ عبدالرحمن چشتی: ایک مطالعہ‘‘، شرف الدین نے ’’قیصر امین پور کی شاعری میں فکر، فن اور سماجی شعور کا تنقیدی مطالعہ‘‘، سجاد الرحمن نے ’’معاصر اردو نظموں میں موضوعات کا تنوع‘‘، نور عالم نے ’’شفیع جاوید کی افسانہ نگاری‘‘ اور محمد علی باشا نے ’’ترقی پسند تحریک کے تحت لکھے گئے منتخب افسانوں کا مثبت اور منفی تجزیہ‘‘ کے موضوعات پر مقالات پیش کیے۔

اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے کی۔

تحقیق میں عصری معنویت کا خیال ضروری

دوسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر احمد امتیاز نے کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقی مقالہ تحریر کرتے وقت اس بات پر ضرور غور ہونا چاہیے کہ زیرِ بحث موضوع کی موجودہ دور میں کیا معنویت ہے اور اس کا ہمارے زمانے سے کس حد تک تعلق قائم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ معاشرہ، حالات اور انسانی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، اس لیے تحقیق کے موضوعات اور طریقۂ مطالعہ میں بھی اس تبدیلی کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ محض ماضی کے حوالے جمع کرنا کافی نہیں بلکہ تحقیق کو موجودہ عہد کے سوالات سے بھی ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

اس اجلاس میں آل زہرہ زیدی نے ’’سامی دور کے ماخذ میں ہندو ایران کے مورخین کا تقابلی مطالعہ‘‘، مریم بی نے ’’اردو زبان و ادب کے فروغ میں اقسامِ ذرائع ابلاغ کا حصہ‘‘، محمد شاداب انصاری نے ’’کرشن چندر کے افسانوں میں نباتاتی عناصر کا تجزیہ‘‘، علی حسین نے ’’احمد مشتاق کی غزلیہ شاعری‘‘ اور عظمیٰ نے ’’سید احمد شمیم کی ادبی خدمات‘‘ کے موضوعات پر مقالات پیش کیے۔

اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید رحمانی نے کی۔

نئے چیلنجز کا مقابلہ تحقیق کی شناخت طے کرے گا

تیسرے اجلاس کی صدارت ڈاکٹر خالد مبشر نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور اپنے ساتھ نئے چیلنجز لے کر آتا ہے اور معاشرہ ان کا مقابلہ بھی کرتا ہے، لیکن تاریخ اسی عہد کو امتیازی حیثیت دیتی ہے جو اپنے چیلنجز کا سامنا دانش مندی اور شعور کے ساتھ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تحقیق بھی نئے مسائل اور چیلنجز سے دوچار ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان چیلنجز کا سامنا کس طرح کرتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل آنے والے وقت میں ہماری علمی اور تحقیقی شناخت متعین کرے گا۔

اس اجلاس میں امتیاز احمد نے ’’بہار میں آزادی کے بعد اردو افسانہ نگاری کے بدلتے موضوعات‘‘، محمد فدیان نے ’’ساغر نظامی کی ادبی خدمات‘‘، محمد ریحان خان نے ’’آغا حشر کاشمیری کی شاعری کی افادیت و معنویت‘‘، ساجد رضا نے ’’بہار میں اردو افسانے کا تنقیدی جائزہ‘‘ اور عبیدالرحمن نے ’’ابوالکلام قاسمی اور اردو تنقید‘‘ کے موضوعات پر تحقیقی مقالات پیش کیے۔

اجلاس کی نظامت غلام سرور نے کی۔

نئی نسل کا نئے موضوعات کی طرف رجحان خوش آئند ہے

سمینار کے آخری اجلاس کی صدارت ڈاکٹر مہتاب جہاں نے کی۔ انہوں نے نئی نسل کے ریسرچ اسکالرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان محققین اب نئے موضوعات کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں اور ان کے مطالعے کا انداز بھی پہلے کے مقابلے میں مختلف دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے غالب انسٹی ٹیوٹ کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے ملک کی تقریباً 40 یونیورسٹیوں سے وابستہ ریسرچ اسکالرز کو تین روز تک ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور انہیں اپنے اپنے شعبوں کی نمائندگی اور تحقیقی کام پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔

آخری اجلاس میں علی اشرف نے ’’شمس الرحمن فاروقی اور تفہیمِ میر و غالب‘‘، شگفتہ خانم نے ’’کشور ناہید کی شاعری میں عصرِ حاضر کے مسائل کی عکاسی‘‘، فرحین خانم نے ’’حمیدہ سالم کی خدمات: اردو کی غیر افسانوی نثر کے حوالے سے‘‘، خلیق الرحمن اعوان نے ’’چنڈی گڑھ، پنچ کولہ اور موہالی کے نمائندہ شعرا‘‘ اور محمد وسیم نے ’’رسالہ شب خون کی ادبی صحافت کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ‘‘ کے موضوعات پر مقالات پیش کیے۔

اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ضوفشاں نے انجام دی۔

سمینار کے اختتام پر غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے تمام شرکاء، محققین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ تین روزہ سمینار نے نوجوان محققین کو نہ صرف اپنے تحقیقی کام کو ماہرینِ ادب کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کیا بلکہ مختلف جامعات کے اسکالرز کے درمیان علمی تبادلے اور باہمی رابطے کے لیے بھی ایک مؤثر پلیٹ فارم مہیا کیا۔