نئی دہلی: کانگریس نے یو جی سی-نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر جمعرات کو مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کو تحلیل کیا جائے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ وزارتِ تعلیم "کمزور" ہے اور این ٹی اے کو "جان بوجھ کر نااہل اور غیر فعال" بنا دیا گیا ہے، جس کے باعث امتحانات کے طریقہ کار میں تبدیلی کے باوجود پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مئی 2026 میں نیٹ-یو جی کا پرچہ لیک ہونے کے بعد وزیر تعلیم نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ سال سے نیٹ امتحان کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹ (سی بی ٹی) کے ذریعے منعقد کیا جائے گا۔
ان کے مطابق اس اعلان سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ سی بی ٹی طریقۂ امتحان میں پرچہ لیک نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ اس سال یو جی سی-نیٹ سوشیالوجی کے امتحان کا پرچہ بھی مبینہ طور پر لیک ہوا، حالانکہ یہ امتحان بھی سی بی ٹی طریقے سے منعقد کیا گیا تھا۔
جئے رام رمیش نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس سے پہلے یو جی سی-نیٹ انگریزی کے امتحان میں سوالات پرانے پرچوں سے بغیر کسی تبدیلی کے نقل کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کا طریقہ کار خواہ کچھ بھی ہو، پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری نے ایک بار پھر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور این ٹی اے کو تحلیل کرنے کا مطالبہ دہرایا۔