نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعرات کو سی بی ایس ای کے نصاب کے تحت نویں جماعت سے تیسری زبان لازمی کرنے کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے طلبہ پر غیر ضروری تعلیمی دباؤ بڑھے گا۔ عدالت نے مشورہ دیا کہ اگر تیسری زبان پڑھانا مقصود ہے تو اسے پانچویں یا چھٹی جماعت سے شروع کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ اسے بہتر طور پر سیکھ سکیں۔
جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے سماعت کے دوران زبانی طور پر مرکزی حکومت سے کہا کہ نویں جماعت سے تیسری زبان نافذ نہ کی جائے، کیونکہ اس مرحلے پر طلبہ پہلے ہی امتحانات اور نصابی بوجھ کے باعث دباؤ میں ہوتے ہیں۔ یہ ریمارکس تمل ناڈو حکومت کی اس درخواست کی سماعت کے دوران دیے گئے، جس میں مدراس ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا ہے کہ ریاست کے ہر ضلع میں جواہر نوودیہ ودیالیہ قائم کرنے کی راہ ہموار کی جائے۔
تمل ناڈو حکومت طویل عرصے سے نوودیہ اسکولوں کی مخالفت کرتی رہی ہے اور اس کی بنیادی وجہ ان میں نافذ سہ لسانی پالیسی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قومی تعلیمی پالیسی میں کہیں بھی تیسری زبان کے طور پر ہندی کو لازمی قرار نہیں دیا گیا۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ ریاستی زبان اور انگریزی کے ساتھ کوئی بھی تیسری زبان پڑھائی جا سکتی ہے، خواہ وہ سنسکرت ہو یا کوئی اور زبان۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر نئی زبان سکھانی ہے تو اسے ابتدائی جماعتوں، یعنی پانچویں یا چھٹی سے شروع کیا جانا چاہیے، نہ کہ نویں جماعت سے، کیونکہ اس وقت طلبہ پر پہلے ہی پڑھائی کا کافی دباؤ ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ صرف اس بنیاد پر مرکزی حکومت کی تعلیمی اسکیموں کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ مرکز کی اسکیمیں ہیں۔ تاہم، عدالت نے کہا کہ نوودیہ ودیالیہ کے قیام کے معاملے پر مرکز اور تمل ناڈو حکومت کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اگلی سماعت 11 اگست کو ہوگی۔