نئی دہلی:۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور شہری جانوں کے نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ماہ شروع ہونے والے تنازع کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی گفتگو تھی۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انہوں نے ایرانی صدر سے خطے کی سنگین صورتحال پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی میں اضافہ شہریوں کی جانوں کے ضیاع اور شہری ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر شدید تشویش کا باعث ہے۔
مودی نے گفتگو کے دوران ایران میں مقیم ہندوستانی شہریوں کی سلامتی اور تحفظ کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اشیاء اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانا ہندوستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ ہندوستان امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے اور تمام مسائل کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
ہندوستانی حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیر اعظم کو ایران کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا اور خطے میں حالیہ پیش رفت کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بھی پیش کیا۔
اس وقت ایران میں تقریباً 9000 ہندوستانی شہری موجود ہیں جن میں طلبہ پیشہ ور افراد ملاح اور زائرین شامل ہیں۔ ہندوستانی حکام نے پہلے ہی سینکڑوں ہندوستانیوں کو تہران سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے جبکہ کئی افراد آذربائیجان اور آرمینیا کے راستے وطن واپس جانے کے لیے ایران سے نکل چکے ہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان 28 فروری سے جاری کشیدگی کے بعد وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی سے تین مرتبہ بات چیت کر چکے ہیں جس میں کشیدگی میں اضافے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔