نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے 3,600 کروڑ روپے کے اگستا ویسٹ لینڈ وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر گھوٹالے میں مبینہ دلال کرسچین مشیل جیمز کی جیل سے رہائی کی عرضی بدھ کے روز خارج کر دی۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس رویندر دودےجا کی بنچ نے کہا کہ برطانوی شہری کی عرضی میں کوئی ٹھوس بنیاد نہیں ہے۔ جیمز کو دسمبر 2018 میں دبئی سے حوالگی کے ذریعے بھارت لایا گیا تھا۔
فیصلے کی تفصیلی کاپی کا انتظار ہے۔ اپنی عرضی میں جیمز نے بھارت-یو اے ای حوالگی معاہدے کی ایک شق کو چیلنج کیا تھا۔ اس نے 7 اگست 2025 کو نچلی عدالت کے اس حکم کو بھی چیلنج کیا تھا، جس میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 436 اے کے تحت اس کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
جیمز نے 1999 کے معاہدے کے آرٹیکل 17 کو چیلنج کیا، جو درخواست کرنے والے ملک (اس معاملے میں بھارت) کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ حوالگی کیے گئے شخص پر نہ صرف اس جرم کے لیے بلکہ اس سے جڑے دیگر جرائم کے لیے بھی مقدمہ چلا سکتا ہے۔ جیمز کی جانب سے دلیل دی گئی کہ حوالگی کے بعد کسی شخص پر صرف انہی جرائم کے لیے مقدمہ چلایا جا سکتا ہے جن کے لیے اس کی حوالگی ہوئی ہو، نہ کہ اس سے متعلق دیگر الزامات کے لیے۔ حوالگی کے بعد جیمز کو مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے گرفتار کیا تھا۔
جیمز نے یہ بھی کہا کہ اس نے 4 دسمبر 2025 کو جیل میں سات سال مکمل کر لیے ہیں اور جن جرائم کے لیے اس کی حوالگی ہوئی تھی، ان کی زیادہ سے زیادہ سزا وہ کاٹ چکا ہے، اس لیے اس کی موجودہ حراست غیر قانونی ہے۔ جیمز اس معاملے میں تین مبینہ دلالوں میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر دو گویڈو ہاشکے اور کارلو گیروسا ہیں۔
سپریم کورٹ نے فروری 2025 میں سی بی آئی کیس میں جیمز کو ضمانت دی تھی، جبکہ مارچ میں ہائی کورٹ نے ای ڈی کیس میں بھی اسے ضمانت دے دی تھی۔ تاہم، ضمانت کی شرائط پوری نہ کر پانے کی وجہ سے وہ اب بھی جیل میں ہے۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں الزام لگایا ہے کہ 8 فروری 2010 کو ہوئے وی وی آئی پی ہیلی کاپٹر معاہدے میں سرکاری خزانے کو تقریباً 39.82 ملین یورو (تقریباً 2,666 کروڑ روپے) کا نقصان ہوا۔ وہیں، ای ڈی نے جون 2016 میں دائر اپنی چارج شیٹ میں الزام لگایا کہ جیمز کو اگستا ویسٹ لینڈ سے 30 ملین یورو (تقریباً 225 کروڑ روپے) موصول ہوئے تھے۔