سری نگر:جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ چنار بک فیسٹیول اب محض کتابوں کی نمائش نہیں بلکہ مطالعے کے فروغ، علم کی ترویج، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور فکری بیداری کی ایک مؤثر تحریک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میلہ جموں و کشمیر کو تعلیم، ادب، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے قومی مرکز کے طور پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سری نگر کے شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقدہ چنار بک فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے کتابوں کی خرید و فروخت سے آگے بڑھ کر خیالات کے تبادلے، علمی مکالمے اور نئی سوچ کو فروغ دینے کا ایک قومی مرکز کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ان کے مطابق یہاں ہونے والی ادبی نشستیں، ورکشاپس اور تبادلۂ خیال نوجوان نسل میں مطالعے کا ذوق پیدا کرنے کے ساتھ انہیں مثبت سمت فراہم کر رہے ہیں۔
Srinagar | Lieutenant Governor @manojsinha_ addressed the gathering at SKICC while inaugurating the 9-day Chinar Book Festival.@OfficeOfLGJandK #ChinarBookFestival #ManojSinha #Srinagar #JammuAndKashmir pic.twitter.com/MnEe2ZyruU
— Gulistan News (@GulistanNewsTV) July 18, 2026
انہوں نے کہا کہ چنار کا درخت صرف کشمیر کی شناخت نہیں بلکہ اس کی تہذیب، ثقافت اور قدرتی حسن کی علامت ہے، جبکہ چنار بک فیسٹیول اس خطے کی فکری اور ادبی شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس میلے نے جموں و کشمیر کی ادبی روایت میں نئی روح پھونکنے کے ساتھ مقامی ثقافتی ورثے کو بھی نمایاں کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ فیسٹیول مختلف علاقوں، زبانوں اور نسلوں کے درمیان ایک مضبوط رابطے کا ذریعہ بن گیا ہے اور ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے تصور کو عملی شکل دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندی، اردو، کشمیری، ڈوگری، گوجری، انگریزی، سنسکرت اور دیگر ہندوستانی زبانوں کا ایک ہی پلیٹ فارم پر یکجا ہونا ملک کے تنوع اور قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔


منوج سنہا نے وندے ماترم کی ایک سو پچاسویں سالگرہ کے سلسلے میں ملک گیر پروگراموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نے مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق مختلف مراحل میں کئی اضلاع قومی سطح پر نمایاں رہے، جن میں کشتواڑ اور پونچھ نے سرفہرست مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی شمولیت اور اجتماعی کوششوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے چیلنجز کے باوجود جموں و کشمیر میں آج امن، اعتماد اور تخلیقی سرگرمیوں کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔ ان کے بقول یہ سرزمین نوجوانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ قلم کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔
کتابوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر کتاب زندگی کے ساتھ ایک مکالمہ ہے، جو انسان کو سوچنے، سوال اٹھانے، اپنے نظریات پر غور کرنے اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کتابوں کو بوجھ نہیں بلکہ زندگی بھر کا ساتھی بنائیں، ہر ماہ کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں اور مستقل لکھنے کی عادت بھی پیدا کریں۔
#ChinarBookFestival | "It is truly encouraging to see young people participating in such large numbers at the Chinar Book Festival." — Prof. Milind Sudhakar Marathe, Chairman, National Book Trust, India#ChinarBookFestival2026 #NBTIndia #SKICC #Srinagar #NationalBookTrust pic.twitter.com/LQ4WkeSgYB
— National Book Trust, India (@nbt_india) July 18, 2026
منوج سنہا نے نیشنل بک ٹرسٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے چنار بک فیسٹیول کو قومی تعلیمی پالیسی کے مقاصد سے ہم آہنگ کرتے ہوئے تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، ہمہ گیر تعلیم اور کثیر لسانی مطالعے کو فروغ دیا ہے، جس سے بچوں کو اپنی مادری زبان سے جڑے رہنے کے ساتھ دیگر زبانیں سیکھنے کا بھی موقع مل رہا ہے۔انہوں نے سال بھر لائبریریوں، بک کلبوں اور ادبی سرگرمیوں کو فعال رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مطالعے کی ثقافت کو صرف چند روزہ میلے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مستقل سماجی تحریک کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔اپنے خطاب کے اختتام پر لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کسی بھی کتاب میلے کی کامیابی فروخت ہونے والی کتابوں کی تعداد سے نہیں بلکہ ان خیالات، مباحثوں اور شعور سے ناپی جانی چاہیے جو وہ معاشرے میں پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک بھی نوجوان کسی کتاب سے متاثر ہو کر اپنی زندگی کا رخ مثبت انداز میں بدل لے تو یہی اس میلے کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
چنار بک فیسٹول میں خسرو فاونڈیشن
چنار بک فیسٹیول میں اس بار خسرو فاونڈیشن بھی اپنی اہم اور حساس موضوعات پر نئی کتابوں کے ساتھ شرکت کررہا ہے ۔ فاونڈیشن کے کنونیر ڈاکٹر حفیظ الرحمن کے مطابق ہر سال کی طرح نئی پیشکشوں کے ساتھ ہم اس خوبصورت کتابی میلے کا حصہ بن رہے ہیں ۔ جن میں بچوں کے ادب سے قومی یکجہتی اور ہندوستانی و صوفی ازم کے موضوع تک کتابیں شامل ہیں، ڈالتے ہیں ایسی ہی کچھ کتابوں پر ایک نظر

ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ صرف منفر د ہے بلکہ شاید اس موضوع پر پہلی کتاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ جس کو کتاب کے مصنف غوث سیوانی نے گہرے مطالعے اور تحقیق کے بعد لکھا ہے۔ مصنف کی دیگر کتابوں اور تحریروں کی طرح ، اس کتاب کی بھی یہ خوبی ہے کہ موضوع منفر د ہونے کے ساتھ ساتھ زبان انتہائی سادہ وسلیس، رواں ومربوط ہے۔
اپنی نوعیت کی شاید پہلی اور منفر د کتاب ہے ۔آپ کو بتا دیں کہ شاہ تاج خان اردو ادب خاص طور پر بچوں کے لیے اور سائنس کے موضوعات پر لکھتی ہیں ۔ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ اس کتاب میں خواتین کے جسمانی مسائل سے متعلق فکشن کے پیرائے میں بات کی گئی ہے اور ایک عورت کا درد اور اس کے ذریعہ سے پیدا ہونے والی ذہنی و جسمانی تکلیف کو بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کتاب کی کہانیوں کا مرکزی کردار وادی کشمیر ہے۔کشمیر صرف ظاہری خوب صورتی، برفیلی وایوں، حسین موسم ، لذیذ موسمی پھل اور میوہ جات کے لئے ہی مشہور نہیں بلکہ حسین وادیوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی مہمان نوازی، اخلاقیات، صفائی، اردو زبان و تہذیب، یہاں کے باشندوں کے مزاج میں صوفیانہ اقدار کی مہک اور بے شمار ایسی خوب صورت روایات موجود ہیں جو ہر آنے والے مہمان اور مسافر کو یہ کہنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ۔۔۔۔۔ چنار بک فیسٹول کے پروگرام
نو روزہ اس ادبی اور ثقافتی میلے میں کتابوں کی نمائش کے ساتھ ساتھ ادبی نشستیں۔ مکالمے۔ کتابوں کی رونمائی۔ ثقافتی مباحثے۔ تعلیمی پروگرام اور مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات کے ساتھ خصوصی ملاقاتوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مصنفین کے گوشے میں ہر روز مختلف موضوعات پر گفتگو اور تبادلہ خیال ہوگا جس میں ملک بھر سے ادیب۔ محققین۔ صحافی۔ ماہرین تعلیم اور دیگر نمایاں شخصیات شرکت کریں گی۔
18 جولائی۔ ہفتہ۔
چنار بک فیسٹیول کے افتتاحی دن کتابوں کی نمائش۔ مختلف اشاعتی اداروں کے اسٹالوں کے افتتاح۔ قارئین کی آمد اور ادبی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ فیسٹیول کا آغاز ہوگا۔
19 جولائی۔ اتوار۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے صحافت کے موضوع پر "سرخیوں سے آگے۔ کہانی گوئی کے طور پر صحافت" کے عنوان سے نشست ہوگی جس میں سنجیو گپتا۔ نریش کوشک۔ پرشانت استھانا اور نایانیکا سین گپتا شرکت کریں گے جبکہ جاوید ملک نظامت کریں گے۔
دوپہر 1:00 بجے تا 1:45 بجے "اردو۔ کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات" کے موضوع پر خصوصی گفتگو ہوگی۔ اس نشست میں پروفیسر مفتی مدثر فاروقی اور ڈاکٹر مہناز رحمان اظہار خیال کریں گے جبکہ ڈاکٹر حفیظ الرحمن نظامت کے فرائض انجام دیں گے۔
20 جولائی۔ پیر۔
صبح 11:00 بجے تا 1:00 بجے خلانورد گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کے ساتھ "اپنے سپر ہیرو سے ملاقات" کے عنوان سے خصوصی پروگرام ہوگا۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت سہ لسانی فارمولے اور کثیر لسانی تعلیم پر مذاکرہ ہوگا جس میں پروفیسر نیلوفر خان اور پروفیسر ایم افضل عالم شریک ہوں گے۔
اسی وقت آدھار ایپ کے استعمال پر ایک خصوصی تربیتی نشست بھی منعقد کی جائے گی۔
21 جولائی۔ منگل۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے کشمیر کی روایتی خوراک اور پائیدار طرز زندگی پر گفتگو ہوگی۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے "ڈیجیٹل دور میں اردو کا مستقبل" کے موضوع پر مذاکرہ ہوگا جس میں پروفیسر محمد زاہد الحق اور شاہد شفیع ایتو شریک ہوں گے۔
دوپہر 1:00 بجے تا 1:45 بجے "میر تقی میر کی غزلیہ شاعری کا غنائی پہلو" کتاب کی رونمائی ہوگی۔
شام 3:00 بجے تا 5:00 بجے کشمیر میں تھیٹر کی روایت کی بحالی پر خصوصی تھیٹر میٹ منعقد ہوگا۔
22 جولائی۔ بدھ۔
صبح 10:30 بجے تا 11:15 بجے کشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور مستقبل پر گفتگو ہوگی۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے معروف اداکار راکیش بیدی کے ساتھ خصوصی نشست ہوگی۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے "میرا تخلیقی سفر۔ مصنفین سے ملاقات" کے عنوان سے پروگرام ہوگا جس میں پروفیسر خالد جاوید اور خورشید اکرم شریک ہوں گے۔
دوپہر 1:00 بجے تا 1:45 بجے وادی کی خواتین کی خدمات اور وراثت پر نشست منعقد ہوگی۔
دوپہر 2:15 بجے تا 3:00 بجے ملک کی ترقی میں خواتین کے کردار پر مذاکرہ ہوگا۔
شام 3:00 بجے تا 3:45 بجے سرمایہ بازار میں محفوظ سرمایہ کاری کے موضوع پر ماہرین اظہار خیال کریں گے۔
23 جولائی۔ جمعرات۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے "اسکرین سے مطالعہ تک۔ بدلتی ہوئی قرأت کی دنیا" کے موضوع پر گفتگو ہوگی۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے "کشمیر کی ادبی جمالیات کی روایت۔ جدت اور اثرات" پر خصوصی مذاکرہ منعقد ہوگا۔
24 جولائی۔ جمعہ۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے سری نگر میں ٹریفک اور شہری منصوبہ بندی کے موضوع پر "ڈی کنجسٹنگ سری نگر" نشست ہوگی۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے نوجوان نسل اور قوم کی تعمیر میں ان کے کردار۔ چیلنجز۔ مواقع اور ذمہ داریوں پر پینل مباحثہ ہوگا۔
شام 3:00 بجے تا 3:45 بجے نیشنل بک ٹرسٹ کی کتاب "ودیا اینڈ چھوٹا بھیم۔ بگ گرین مشن" کی رونمائی ہوگی۔
شام 4:00 بجے تا 5:00 بجے کہانی کو کتاب سے اسٹیج تک پہنچانے کے مختلف مراحل پر خصوصی نشست منعقد کی جائے گی۔
25 جولائی۔ ہفتہ۔
صبح 11:00 بجے تا 11:45 بجے روایتی دستکاری اور فیشن کے احیا پر گفتگو ہوگی۔
دوپہر 12:00 بجے تا 12:45 بجے "ہندوستانی سنیما۔ اردو اور تہذیبی اقدار کا خزانہ" کے موضوع پر مظفر علی اظہار خیال کریں گے۔
دوپہر 2:00 بجے تا 2:45 بجے ادب۔ سیاحت۔ کتابوں اور ڈیجیٹل اختراعات کے ذریعے سیاحت کے فروغ پر نشست ہوگی۔
شام 3:00 بجے تا 3:45 بجے جموں و کشمیر میں صحت کے مستقبل پر ماہرین گفتگو کریں گے۔
اسی وقت وادی کی زبان۔ ادب اور ادبی وراثت پر بھی خصوصی نشست منعقد ہوگی۔
26 جولائی۔ اتوار۔
فیسٹیول کے آخری دن صبح 11:00 بجے تا 1:00 بجے کارگل وجے دیوس کے موقع پر ملک کے جانباز سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی تقریب منعقد ہوگی جس کے ساتھ نو روزہ چنار بک فیسٹیول اختتام پذیر ہوگا۔