نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بچوں کے اغوا کے معاملات کی وقت مقررہ تحقیقات، خصوصی تفتیشی طریقہ کار اور فوری سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام سمیت ملک گیر یکساں نظام قائم کرنے کی درخواست پر جمعرات کو مرکزی حکومت اور ریاستوں سے جواب طلب کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی۔ موہنا کی بنچ نے وکیل اور عرضی گزار اشونی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر مرکز، ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مرکزی وزارت تعلیم، وزارت قانون و انصاف، وزارت داخلہ اور لاء کمیشن کو نوٹس جاری کیے۔
ایڈووکیٹ آن ریکارڈ اشونی کمار دوبے کے ذریعے دائر اس عرضی میں بچوں کے اغوا کے معاملات سے نمٹنے میں انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کی خامیوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عرضی میں سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے تاکہ تفتیشی ایجنسیاں فوری اور باہمی تال میل کے ساتھ کارروائی یقینی بنائیں۔ عرضی میں عدالت سے مرکز اور ریاستوں کو معیاری سوالنامہ اور خصوصی تفتیشی طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں کے اغوا کے معاملات کی تحقیقات اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس یا تھانہ انچارج سے کم رینک کا افسر نہ کرے، تاکہ وقت مقررہ میں تفتیش مکمل ہو سکے۔ عرضی میں اغوا کے معاملات کو ایک سال کے اندر نمٹانے کے لیے ’ممبر اسمبلی/ممبر پارلیمنٹ‘ عدالتوں کی طرز پر خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مرکز اور ریاستوں کو اغوا کار اور اس کے اہل خانہ کی مکمل جائیداد کا جائزہ لینے اور اس کے مطابق منی لانڈرنگ، بے نامی جائیداد اور کالے دھن سے متعلق قوانین نافذ کرنے کی ہدایت دی جائے۔
عرضی میں قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کے ساتھ دہلی، حیدرآباد، راجستھان اور ملک کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک یکساں ادارہ جاتی نظام کی ضرورت ہے۔ عرضی میں ایک اہم شکایت یہ بھی کی گئی ہے کہ لاپتہ بچوں سے متعلق شکایات پر ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے انہیں صرف ’’گمشدہ‘‘ یا ’’لاپتہ شخص‘‘ کی رپورٹ کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔ عرضی کے مطابق اس طرح کی کارروائی سے مجرمانہ تحقیقات شروع ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔