نئی دہلی : گجرات کے ایک شخص، جس نے ایئر انڈیا اے آئی-171 طیارہ حادثہ میں اپنے خاندان کے تین افراد کو کھو دیا، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے احمد آباد کے مردہ خانے میں طیارے کے کپتان کپتان سُمیت سبروال کی لاش دیکھی تھی، جو بیٹھے ہوئے انداز میں تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اب بھی طیارے کا اسٹیئرنگ تھامے ہوئے ہوں۔
رومن ووہرا نامی اس شخص کے یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حادثے کی وجوہات اور پرواز کے آخری لمحات میں کاک پٹ کے اندر ہونے والی سرگرمیوں پر بحث جاری ہے۔ ان دعوؤں کی بنیاد پر ایک امریکی قانونی فرم کے عہدیدار نے کہا کہ اس سانحے کے لیے کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے حادثے کی تحقیقات “واقعی آزاد ماہرین” سے کروائی جانی چاہییں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ اس حادثے کے 100 سے زائد متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، “متاثرہ خاندانوں کو سچ جاننے کا حق حاصل ہے، نہ کہ ایسا جلد بازی میں اخذ کیا گیا نتیجہ جو طاقتور کمپنیوں یا اداروں کو بچانے کے لیے ہو۔” ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز اے آئی-171، 12 جون کو سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈہ سے اڑان بھرنے کے چند لمحوں بعد میگھانی نگر کے ایک ہاسٹل کمپلیکس کی عمارت سے ٹکرا گئی تھی۔
اس حادثے میں طیارے میں سوار 241 افراد اور زمین پر موجود 19 افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ صرف ایک مسافر زندہ بچ سکا تھا۔ طیارہ کپتان سُمیت سبروال اور شریک پائلٹ کلائیو کنڈر چلا رہے تھے۔ حادثے میں اپنے بھائی، بھتیجی اور ایک قریبی رشتہ دار کو کھونے والے رومن ووہرا نے دعویٰ کیا کہ وہ 13 جون کو اپنے اہلِ خانہ کی لاشوں کی شناخت کے لیے مردہ خانے گئے تھے، جہاں انہوں نے کپتان سبروال کی لاش دیکھی۔
پیشہ کے اعتبار سے لیب ٹیکنیشن ووہرا نے بتایا کہ انہیں مردہ خانے کے اندر جانے کی اجازت اس لیے ملی کیونکہ وہ طبی شعبے سے وابستہ ہیں اور ان کے کچھ رابطے بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا، میرے بھائی، ان کی بیٹی اور میری ایک رشتہ دار اس حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ حادثے کے اگلے دن میں ان کی شناخت کے لیے گیا تھا۔ چونکہ میں میڈیکل فیلڈ سے تعلق رکھتا ہوں، اس لیے مجھے اندر جانے کی اجازت مل گئی۔
ووہرا کے مطابق، کپتان سُمیت سبروال کی لاش دیگر لاشوں سے الگ ایک میز کے کنارے رکھی گئی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا، اس وقت لاش اکڑی ہوئی تھی اور بیٹھنے کی حالت میں تھی، جیسے وہ اب بھی اپنی نشست پر بیٹھے ہوں۔