نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ وہ تمام ممتاز مصنفین اور مفکرین کی آرا کا احترام کرتی ہے، لیکن وہ ‘واٹس ایپ یونیورسٹی’ سے حاصل کردہ معلومات کو قبول نہیں کر سکتی۔ نو ججوں پر مشتمل آئینی بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیے جب وہ کیرالہ کے شبرمالا مندر سمیت مذہبی مقامات پر خواتین کے ساتھ امتیاز اور مختلف مذاہب کی جانب سے اپنائی جانے والی مذہبی آزادی کی حدود اور دائرہ کار سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہی تھی۔
بنچ میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس بی وی ناگرتنا، جسٹس ایم ایم سندریش، جسٹس احسان الدین امان اللہ، جسٹس اروند کمار، جسٹس آگسٹین جارج مسیح، جسٹس پرسانا بی ورالے، جسٹس آر مہادیون اور جسٹس جوی مالیا باگچی شامل تھے۔ داؤدی بوہرا کمیونٹی کے سربراہ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل نیرج کشور کول نے کانگریس لیڈر ششی تھرور کے ایک مضمون کا حوالہ دیا، جس میں مذہبی معاملات میں عدالتی احتیاط کی بات کی گئی تھی۔
اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، “ہم تمام ممتاز شخصیات اور قانونی ماہرین کا احترام کرتے ہیں، لیکن ذاتی رائے، ذاتی رائے ہی ہوتی ہے۔” کول نے کہا کہ ہر طرح کے ذرائع سے معلومات حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر علم اور دانائی کسی بھی ذریعہ، کسی بھی ملک یا کسی بھی یونیورسٹی سے آئے تو اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ ہماری تہذیب اتنی مالا مال ہے کہ ہم ہر قسم کے علم اور معلومات کو قبول کر سکتے ہیں۔
اس پر جسٹس ناگرتنا نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا، “لیکن واٹس ایپ یونیورسٹی سے نہیں۔” کول نے کہا کہ وہ اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ انہوں نے کہا، “میں اس بات پر نہیں جا رہا کہ کون سی یونیورسٹی اچھی ہے یا بری، کیونکہ یہ اس بحث کے لیے غیر متعلق ہے... مسئلہ صرف اتنا ہے کہ جہاں سے بھی علم اور معلومات ملیں، انہیں قبول کیا جانا چاہیے۔
خبر لکھے جانے تک کیس کی سماعت جاری تھی۔ سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا تھا کہ کسی مذہبی فرقے کی کسی خاص روایت کو ضروری یا غیر ضروری قرار دینے کے لیے معیار طے کرنا عدالتی فورم کے لیے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ ستمبر 2018 میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے 4:1 کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے 10 سے 50 سال کی عمر کی خواتین کے شبرمالا اییاپا مندر میں داخلے پر عائد پابندی کو ہٹا دیا تھا اور کہا تھا کہ صدیوں پرانی یہ ہندو مذہبی روایت غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔