کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو ہگلی کے شری رام پور میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم عدالت نے جی ٹی روڈ پر مجوزہ جلوس نکالنے کے بجائے جلسہ منعقد کرنے کی اجازت دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ ٹریفک میں خلل پڑنے کے خدشے اور ماضی میں اس کی ہدایات کی مبینہ خلاف ورزیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیا۔
جسٹس سوگت بھٹاچاریہ نے مہیش جگن ناتھ دیو سنان پیری میدان میں دوپہر ایک بجے سے 3 بجے تک جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ جلسے میں زیادہ سے زیادہ 2,000 افراد شریک ہوسکیں گے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ جلسے کے دوران ایسے اشتعال انگیز بیانات نہ دیے جائیں جن سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ عدالت نے پولیس کو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے مناسب تعداد میں سکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کی بھی ہدایت دی۔ یہ حکم ترنمول کانگریس کے سابق رکن اسمبلی اسیت مجمدار کی عرضی پر آیا، جس میں انہوں نے جی ٹی روڈ پر جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے پولیس کے انکار کو چیلنج کیا تھا۔
اس جلوس کی قیادت ممتا بنرجی کو کرنی تھی۔ عرضی گزار نے دوپہر 2 بجے سے شام 5 بجے تک جلوس نکالنے کی تجویز پیش کی تھی، جس میں تقریباً 5,000 افراد کے شامل ہونے کی توقع تھی۔ ریاستی حکومت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جی ٹی روڈ تنگ ہے اور اسے آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا ضروری ہے، کیونکہ اس کے آس پاس اسپتال، اسکول اور فائر اسٹیشن موجود ہیں۔ حکومت نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ فرقہ وارانہ اعتبار سے حساس ہے۔ عرضی گزار کے وکیل سرسانیو بندوپادھیائے نے دلیل دی کہ سیاسی جماعتیں باقاعدگی سے جی ٹی روڈ پر ریلیاں منعقد کرتی ہیں، لیکن جب ممتا بنرجی کوئی پروگرام منعقد کرنا چاہتی ہیں تو ہی اعتراض کیا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بدھ کو وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی موجودگی میں منعقدہ ایک ریلی کے باعث جنوبی کولکاتا کے یادوپور میں راجا ایس سی ملک روڈ پر ٹریفک بری طرح متاثر ہوا تھا۔ عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بندوپادھیائے نے جلوس کے متبادل کے طور پر مہیش جگن ناتھ دیو سنان پیری میدان میں جلسہ منعقد کرنے کی تجویز دی۔ دوسری جانب ریاستی حکومت کے وکیل نے تجویز دی کہ مجوزہ وقت پر جلوس دہلی روڈ سے نکالا جاسکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کام کے دن تنگ جی ٹی روڈ پر ریلی منعقد ہونے سے مقامی لوگوں کو ہونے والی پریشانی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے عرضی گزار کی جانب سے جلوس کے بجائے جلسہ منعقد کرنے کی تجویز کو قبول کرلیا۔ جسٹس بھٹاچاریہ نے کولکاتا میں ممتا بنرجی کے سیاسی پروگراموں سے متعلق عدالت کی جانب سے پہلے دی گئی دو ہدایات کا بھی حوالہ دیا، جن پر مبینہ طور پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے 21 جولائی اور 28 اگست کو منعقدہ جلسوں کے دوران جنوبی کولکاتا کی کیتھیڈرل روڈ کی ایک لین کو آمدورفت کے لیے کھلا رکھنے کی ہدایت دی تھی، جبکہ دوسری جانب پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ جسٹس بھٹاچاریہ نے کہا کہ حکام کی جانب سے عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، ان دونوں مواقع پر پابندیوں پر عمل نہیں کیا گیا۔
مبینہ طور پر سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی تھی، جس سے گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی آمدورفت متاثر ہوئی تھی۔ ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بندوپادھیائے نے کہا کہ شرکا کی تعداد محدود کرنا مشکل ہوگا، کیونکہ ممتا بنرجی ’’مغربی بنگال کی سب سے کرشماتی لیڈر‘‘ ہیں۔ جج نے کہا کہ چونکہ عرضی گزار اپنے جمہوری حق کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع ہوا ہے، اس لیے اس حق کو برقرار رکھنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ پروگرام کے دن صورتحال سے نمٹنے میں پولیس کو کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔ دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔