نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہائی کورٹس کو ہدایت دی کہ وہ نومبر 2024 کے اس فیصلے کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق دائر توہینِ عدالت کی درخواستوں پر فیصلہ کریں، جس میں بلڈوزر کے ذریعے جائیدادیں منہدم کرنے کے خلاف رہنما اصول جاری کیے گئے تھے۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ان درخواستوں کی براہِ راست سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی شکایات متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائی جانی چاہییں۔ عدالت نے کہا کہ ہر معاملے کے حقائق اور حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے سپریم کورٹ ہر انفرادی دعوے کی حقیقت جانچنے کا فورم نہیں بن سکتی۔
بنچ نے حکم دیا کہ ان تمام مقدمات کا ریکارڈ متعلقہ ہائی کورٹس کو منتقل کیا جائے۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا گیا، اور ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں انہدامی کارروائی سزا کے طور پر کی گئی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نومبر 2024 کا فیصلہ ان بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں دیا گیا تھا جن میں جرائم کے ملزمان کے مکانات کو سزا کے طور پر منہدم کیا جا رہا تھا، تاہم اس فیصلے کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو مکمل تحفظ فراہم کرنا نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے 13 نومبر 2024 کے اپنے فیصلے میں ہدایت دی تھی کہ کسی بھی جائیداد کو منہدم کرنے سے پہلے لازمی طور پر وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جائے اور متعلقہ شخص کو جواب دینے کے لیے کم از کم 15 دن کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ رہنما اصول ان غیر مجاز تعمیرات پر لاگو نہیں ہوں گے جو عوامی مقامات، جیسے سڑک، گلی، فٹ پاتھ، ریلوے لائن یا ندی و آبی ذخائر کے کنارے قائم ہوں، یا ایسے معاملات میں جہاں کسی عدالت نے انہدام کا حکم دیا ہو۔