آواز دی وائس: نئی دہلی
ایک ہندو کے گھر میں آگ لگی تو پڑوس کی مسجد میں تراویح پڑھنے والے نمازی فوراً آگ بجھانے کے لیے پہنچ گئے۔ مسجد سے پائپ لگا کر آگ پر قابو پانے میں مدد کی گئی اور لوگوں کی جانیں بچائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک نمازی موٹرسائیکل سے جا کر فائر بریگیڈ کو بھی اطلاع دے کر لے آیا۔
یہ واقعہ بلند شہر کے کوتوالی نگر علاقے کے محلہ فیصل آباد کا ہے جہاں ایک گھر میں رکھے گیس سلنڈر میں اچانک شدید آگ لگ گئی اور زور دار دھماکے کے ساتھ سلنڈر پھٹ گیا۔ دھماکے کی آواز سنتے ہی پورے محلے میں افرا تفری مچ گئی۔
اس مکان کے عقب میں ایک مسجد موجود ہے۔ اسی دوران مسجد میں تراویح کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ نمازیوں نے فوراً نماز چھوڑ دی اور موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوشش شروع کر دی۔ مسجد سے پانی لا کر اور پائپ کے ذریعے مسلسل پانی ڈال کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔
محلے کے لوگوں کی مشترکہ کوشش سے آخرکار آگ پر قابو پا لیا گیا اور ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ متاثرہ خاندان نے کہا کہ وہ اس انسانیت اور مدد کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
مقامی لوگوں نے اس واقعے کو بھائی چارے اور انسانیت کی زندہ مثال قرار دیا۔ ایک مقامی نوجوان نے کہا کہ جیسے ہی آگ بھڑکی لوگ تراویح چھوڑ کر مدد کے لیے دوڑ پڑے اور سب نے مل کر بھرپور تعاون کیا۔ مسجد سے پانی فراہم کیا گیا جس سے آگ بجھانے میں بڑی مدد ملی۔
ایک ہندو نوجوان نے کہا کہ ہمارے مسلم بھائیوں نے نماز چھوڑ کر مدد کی جو حقیقی بھائی چارے کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سب نے ایک بھائی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا۔ یہ واقعہ ہندو مسلم اتحاد اور انسانیت کی ایک روشن مثال بن گیا اور اس نے ثابت کیا کہ مشکل وقت میں انسانیت آج بھی زندہ ہے۔