نئی دہلی: ہندوستان میں 12 اور 13 ستمبر کو ہونے والے اٹھارہویں برکس سربراہی اجلاس کے پیش نظر قومی دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سکیورٹی کے لیے کتوں کے خصوصی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔اجلاس کے دوران مکمل حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دہلی پولیس نے تقریباً 15 ہزار اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ نیم فوجی دستوں کی تقریباً 200 کمپنیاں بھی سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہیں۔
دہلی پولیس کے خصوصی کمشنر برائے سکیورٹی منیش اگروال نے جمعہ کو بتایا کہ ان انتظامات کے لیے دہلی پولیس کے 15 ہزار سے زیادہ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ نے مرکزی مسلح پولیس دستوں کی تقریباً 200 کمپنیاں فراہم کی ہیں جنہیں امن و امان برقرار رکھنے اور دیگر عملی ذمہ داریوں کے لیے تعینات کیا جارہا ہے۔اس سال برکس سربراہی اجلاس کا موضوع ’’اختراع تعاون اور پائیدار ترقی کے لیے لچک پیدا کرنا‘‘ ہے۔
ہندوستان برکس کا بانی رکن ہے اور اس سے قبل 2012 2016 اور 2021 میں اس گروپ کی صدارت کرچکا ہے۔برکس بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون اور رابطے کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر ابھر چکا ہے۔ یہ کثیر ملکی اداروں میں عالمی جنوب کے مفادات کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ایجنڈے میں ترقی مالیات ٹیکنالوجی تجارت اور عوامی سطح پر باہمی روابط سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔
اس وقت برکس میں 11 ممالک برازیل چین مصر ایتھوپیا ہندوستان انڈونیشیا ایران روس سعودی عرب جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ہندوستان کی برکس صدارت ایسے وقت میں ہورہی ہے جب دنیا کو عالمی معیشت میں بڑھتی تقسیم ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال موسمیاتی تبدیلی اور وسائل پر بڑھتے دباؤ جیسے چیلنجوں کا سامنا ہے۔
برکس کی توسیع شدہ رکنیت ترقی موسمیاتی اقدامات ٹیکنالوجی توانائی اور مالیاتی استحکام کے شعبوں میں تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ عالمی اداروں میں اصلاحات سے متعلق مباحث میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ایک روز قبل وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ عالمی تجارت اسی وقت آگے بڑھ سکتی ہے جب سمندری راستے محفوظ ہوں رسد کی گزرگاہیں کھلی رہیں اور سمندری جہازوں پر کام کرنے والے افراد محفوظ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان سمندری راستوں کی آزادی اور بحری کارکنوں کی سلامتی کا مضبوط حامی ہے۔
وزیراعظم مودی نے ہفتہ کو برکس سربراہی اجلاس کے باضابطہ آغاز سے قبل منعقدہ برکس کاروباری فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک دنیا کی تقریباً 50 فیصد آبادی 40 فیصد عالمی مجموعی قومی پیداوار اور 25 فیصد سے زیادہ عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔