برکس رہنماؤں کی گروپ تصویر اور شجرکاری

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 12-09-2026
برکس رہنماؤں کی گروپ تصویر اور شجرکاری
برکس رہنماؤں کی گروپ تصویر اور شجرکاری

 



نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اور برکس کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے ہفتے کے روز نئی دہلی اعلامیہ 2026 منظور کیے جانے کے بعد گروپ تصویر بنوائی۔ یہ تصویر دارالحکومت میں منعقد ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر لی گئی۔رہنماؤں نے بھارت منڈپم میں مشترکہ طور پر شجرکاری مہم میں بھی حصہ لیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سمیت برکس کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

اس سے قبل برکس ممالک نے نئی دہلی اعلامیہ منظور کیا۔ اعلامیے میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ اعلامیے میں ایسے اقدامات سے گریز کرنے پر بھی زور دیا گیا جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے منشور کے تمام مقاصد اور اصولوں کے مطابق شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے۔ اعلامیے میں طویل مدتی مفاہمت کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کوششیں بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ خطے میں دیرپا امن سلامتی اور استحکام قائم ہو سکے۔ اس کے ساتھ عالمی تجارت رسد کے نظام اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اعلامیے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کے ذریعے عالمی جنوب کی آواز کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ چین اور روس نے 2022 کے بیجنگ اور 2023 کے جوہانسبرگ اعلامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں برازیل اور ہندوستان کے زیادہ مؤثر کردار کی خواہش کی حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے تحت آؤٹ ریچ اور برکس پلس مذاکراتی اجلاس کی میزبانی کرنے پر ہندوستان کی تعریف کی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام سے بین الاقوامی تعاون اور یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے نئی توانائی پیدا ہوئی ہے۔برکس ممالک نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔مشترکہ اعلامیے میں موجودہ عالمی صورتحال میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور عدم اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔