دہرادون: چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع اس وقت پیدا ہوا جب 1954 میں تبت پر بیجنگ کے قبضے کے بعد بھارت نے اسے باضابطہ طور پر چین کا حصہ تسلیم کر لیا۔ دہرادون میں ’بھارت ہمالین انٹرنیشنل اسٹریٹیجک فورم‘ کے تحت ’’فرنٹیئرز، بارڈرز اینڈ ایل اے سی: دی مڈل سیکٹر‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ 1954 میں بھارت اور چین کے درمیان پنچ شیل معاہدہ طے پایا، جس کے بعد بھارت کو یقین تھا کہ اس کی شمالی سرحد کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق یہی وہ علاقہ تھا جس کے بارے میں بھارت کا خیال تھا کہ کسی باضابطہ معاہدے کے ذریعے اس کا تعین نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے نزدیک اس سرحد کی قانونی حیثیت پنچ شیل معاہدے پر مبنی تھی، جس میں شپکی لا، مانا، نیتی، کنگری بنگری، درما اور لیپولیکھ جیسے چھ درّوں کی نشاندہی کی گئی تھی، اور ان راستوں سے تجارت اور یاترا کی اجازت دی جانی تھی۔
تاہم جنرل چوہان کے مطابق چین کا موقف یہ تھا کہ یہ معاہدہ صرف تجارت سے متعلق تھا اور اس میں کسی مخصوص سرحدی تنازع پر چین کا مؤقف ظاہر نہیں ہوتا تھا، جس کے باعث یہ معاملہ بعد میں سرحدی تنازع کی صورت اختیار کر گیا۔ انہوں نے کہا کہ اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو شاید مشرقی سرحد پر میک موہن لائن اور لداخ کے علاقے میں بھارت کے دعوؤں کا علم تھا، لیکن یہ حدود واضح طور پر متعین نہیں تھیں، اسی لیے ممکنہ طور پر وہ پنچ شیل معاہدے کی طرف بڑھے۔
سی ڈی ایس نے ہمالیائی سرحدوں کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹیجک اہمیت اور سرحدی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ اس تنازع کے تناظر میں مربوط اور دور اندیش اسٹریٹیجک منصوبہ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنگا اور یمنا کے مقدس سرچشمے، کیدارناتھ، بدری ناتھ، گنگوتری اور یمونوتری جیسے مذہبی مقامات اور اس خطے کی گہری روحانی و فکری روایات نے اتراکھنڈ کو غیر معمولی اہمیت عطا کی ہے۔
ان کے مطابق اتراکھنڈ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ثقافت، شعور اور تہذیبی ورثے کا زندہ مرکز ہے اور اسٹریٹیجک مباحث کے لیے ایک مثالی مقام بھی ہے۔ جنرل چوہان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبی تحفظ، سرحدی انتظام، فوجی جدید کاری اور آفات سے نمٹنے جیسے مسائل کے حل کے لیے ہمالیائی تناظر کو جامع انداز میں دیکھنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے فورمز سے سامنے آنے والے خیالات قومی پالیسی پر اسی طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں جیسے ہمالیہ سے نکلنے والا دریائے گنگا پورے ملک میں زندگی اور ترقی کو جاری رکھتا ہے۔