نئی دہلی: نیٹ-یو جی پرچہ لیک تنازع کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نوجوانوں تک اپنی رسائی بڑھانے کے لیے انسٹاگرام کو اہم سیاسی پلیٹ فارم بنا لیا ہے۔ اس مہم کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی کر رہے ہیں، جبکہ متعدد مرکزی وزراء اور پارٹی رہنما بھی اس میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ یہ سرگرمی اس وقت تیز ہوئی جب وزیر اعظم مودی نے حال ہی میں اپنے کابینہ ساتھیوں سے کہا کہ وہ انسٹاگرام ریلز کے ذریعے نوجوانوں سے زیادہ مؤثر رابطہ قائم کریں۔
پارٹی کی یہ حکمت عملی نیٹ-یو جی پرچہ لیک کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے بعد سامنے آئی، جس نے نوجوانوں میں سیاسی مباحث پر انسٹاگرام کے بڑھتے اثرات کو اجاگر کیا۔ طلبہ کی احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) مئی 2026 میں ایک آن لائن طنزیہ تحریک کے طور پر وجود میں آئی تھی اور اب تک اس کے انسٹاگرام پر 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے گزشتہ چند دنوں میں انسٹاگرام پر سیلفی انداز کی متعدد ویڈیوز شیئر کیں، جن میں انہوں نے نوجوانوں کا امتحانی اصلاحات سمیت مختلف تجاویز پر شکریہ ادا کیا۔ 2014 سے انسٹاگرام استعمال کرنے والے مودی کے فالوورز کی تعداد احتجاج کے دوران ایک آدھی رات کی سیلفی ویڈیو کے بعد تقریباً 10 لاکھ بڑھ گئی، جس کے بعد ان کے فالوورز کی تعداد تقریباً 10 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی۔
بی جے پی کے سرکاری انسٹاگرام اکاؤنٹ کے تقریباً 95 لاکھ فالوورز ہیں، جو ملک کے مقبول ترین سیاسی اکاؤنٹس میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں اس اکاؤنٹ سے امتحانی پرچہ لیک، خاص طور پر پنجاب کے مبینہ معاملات، اور پارلیمنٹ میں پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) بل سے متعلق متعدد ویڈیوز اور ریلز پوسٹ کی گئی ہیں۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے اس بل پر بحث میں رکاوٹ ڈالی، حالانکہ اس کا مقصد طلبہ کے مفادات کا تحفظ اور پرچہ لیک پر روک لگانا ہے۔ نئے مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی نے بھی انسٹاگرام پر حکومت کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف انفئیر مینز) ایکٹ 2024 نافذ کیا ہے، جس میں امتحانی مافیا کے لیے 10 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا انتظام ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے سیاست سے بالاتر ہو کر امتحانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی بحث میں حصہ لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعظم کی ویڈیوز تقریباً تمام مرکزی وزراء نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر شیئر کیں، جبکہ کئی وزراء، جو پہلے بہت کم متحرک تھے، اب روزانہ متعدد پوسٹس کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر جے پی نڈا نے سی جے پی کے ترجمانوں سے ملاقاتوں کی ویڈیوز شیئر کیں، جبکہ وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے پرچہ لیک قانون میں ترمیم سے متعلق بل اور طلبہ سے صبر کی اپیل کرنے والی ویڈیوز پوسٹ کیں۔ ان کی روزانہ پوسٹس کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے بھی پرچہ لیک بل سے متعلق درجنوں ویڈیوز شیئر کیں اور اسے طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک "تاریخی" اقدام قرار دیا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو انصاف دلانے اور پرچہ لیک میں ملوث افراد کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام سے متعلق ویڈیو پوسٹ کی۔ وزیر اعظم مودی نے اتوار کو انفوسس کے شریک بانی نندن نیلکنی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس کے قیام کا بھی اعلان کیا، جو امتحانی نظام کو مکمل طور پر لیک پروف بنانے کے لیے اصلاحات تجویز کرے گی۔
مرکزی وزیر پیوش گوئل نے بھی حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس، سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے پارلیمانی بحث میں حصہ لے۔ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر انپورنا دیوی نے جھارکھنڈ میں مبینہ امتحانی اور بھرتی گھوٹالوں پر ویڈیوز اور "ہیمنت استعفیٰ دو" کے نعرے والی گرافکس پوسٹ کیں اور پورے بھرتی عمل کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے بھی احتجاج سے متعلق ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ویڈیوز درست ہیں تو تحریک طلبہ کے اصل مسائل سے ہٹ چکی تھی۔ انہوں نے مختلف ریاستوں میں پرچہ لیک کے معاملات پر اپوزیشن کے رویے پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ 2025-26 کے دوران زیادہ تر مبینہ پرچہ لیک کے واقعات ان ریاستوں میں سامنے آئے جہاں انڈیا اتحاد کی حکومتیں ہیں۔ ادھر حکومت نے پیر کو لوک سبھا میں انسدادِ پرچہ لیک قانون میں ترمیم کا بل پیش کیا، جس میں 10 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سخت سزا کی تجویز دی گئی ہے۔